حیاتِ نور

by Other Authors

Page 271 of 831

حیاتِ نور — Page 271

علوم پر یقین کریں۔دوم ان کے بچے بیچ واقعی علوم کے مطابق سنوار کے کام کریں اور کرتے رہیں۔کوئی کام ایسا نہ ہو جو سنوار اور اصلاح کے خلاف ہو۔سوم دوسروں کو آخری دم تک بتاکید حق بتاتے رہیں اور ہر دم نفس واپسین یقین کر کے بطور وصیت حق پہنچا دیں۔چہارم۔ان سچائیوں ، صداقتوں پر عملدرآمد کرانے کی کوشش کریں کہ وہ دوسرے لوگ بھی بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر مضبوط رہنے میں استقلال کریں۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں آپ کا درس قرآن ۱۹۰۳ء حضرت حاجی غلام احمد صاحب سکنہ کر یام تحصیل نواں شہر دو آبہ ضلع جالندھر کا بیان ہے کہ آخر جنوری یا شروع فروری ۱۹۰۳ء میں خاکسار را تم اور بشارت علی پوسٹماسٹر پنشنر قادیان دارالامان کی طرف روانہ ہوئے۔جب بٹالہ سے یکہ پر سوار ہوئے تو تیسرا آدمی قادیان شریف کا تھا جو ہندو تھا اور معمر تھا۔اس سے میں نے حالات حضرت اقدس دریافت کرنے شروع کئے۔اس نے کہا کہ مرزا صاحب بہت نیک آدمی تھے۔بہت عابد تھے۔مگر چند سالوں سے کچھ جھوٹ ان کی طرف لگ گیا ہے۔یکہ ہمارا مہمانخانہ موجودہ کے دروازے پر ٹھہرا۔اسباب اتارا گیا۔پہلا آدمی جو ہمیں ملاوہ فلاسفر اللہ دین تھا۔انہوں نے اسباب اپنی حفاظت میں رکھ کر فرمایا۔جماعت تیار ہے۔ہم مسجد اقصیٰ کو چلے گئے۔عصر کی نماز ہو چکی تھی۔درس قرآن کریم شروع ہونے والا تھا۔عصر کی نماز ادا کی اور درس میں شامل ہو گئے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب اینٹوں کی طرف جو مینارہ کے لئے جمع تھیں، پیٹھ کر کے بیٹھ گئے۔صحن مسجد اقصیٰ کے ارد گرد احمدی احباب قرآن کریم ہاتھوں میں لئے بیٹھے تھے۔مولوی صاحب کے سر پر سیا لنگی بندھی اور سیاہ رنگ کا چوند زیب تن تھا۔گمبرون کا پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔قرآن