حیاتِ نور — Page 267
۲۶۷ سات نُ گیا۔ہیں۔اندر سے تو دھو دے اور کپڑے بدل لے اس لئے کہ اب ستی نہیں کروں گا“۔اس کے بعد اس کا نام حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی تجویز کے مطابق " عبد اللہ " رکھا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا خطبہ نکاح - ۱۲ ستمبر ۱۹۰۲ء قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ( ناظر خدمت در ویشان قادیان و صدر نگران بورڈ ) جن کی شادی حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب پشاوری کی صاحبزادی حضرت سرور سلطانہ صاحبہ سے قرار پائی تھی اور مہر ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا، کا خطبہ نکاح حضرت مولوی صاحب نے مورخہ ۲ ستمبر ۱۹۰۲ء کو پڑھا۔حضرت مولوی غلام حسن صاحب ایک عالم آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو صدر انجن کا مبر بھی مقر فرمایا تھا لیکن ابتدائے خلافت ثانیہ میں آپ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ممبر بن گئے تھے۔مگر کافی عرصہ غور وفکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دی اور قادیان تشریف لے جا کر حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذالک مجھے یاد ہے آپ قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی بیٹھک میں قیام فرما تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس خاکسار کو بلوا کر فرمایا کہ تم خاں صاحب کے پاس بیٹھا کرو اور انہیں وصیت کرنے کی تحریک کیا کرو۔ساتھ ہی فرمایا۔انہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔اگر انہوں نے وصیت کر دی تو ان کی طرف سے زر وصیت انشاء اللہ میں خود ادا کردوں گا۔چنانچہ خاکسار نے اس حکم کی تعمیل کی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت خانصاحب کو وصیت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔خاکسار کے سامنے آپ نے فارم پر کیا۔اور جہانتک مجھے یاد ہے آپ کی وصیت کے فارم پر پہلے حضرت صاحبزادہ صاحب نے بطور گواہ دستخط کئے اور پھر اس خاکسار نے۔فالحمد للہ علیٰ زالک حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا خطبہ نکاح - اکتوبر ١٩٠٢ء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ امسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ الحکم، اجون ۱۹۰۲ ء یہ وہی عبد اللہ ہیں جو بعد میں ڈاکٹر عبد اللہ صاحب کے نام سے مشہور ہوئے اور قادیان میں ایک لیے عرصہ تک نو ر ہسپتال میں کام کرتے رہے۔