حیاتِ نور — Page 263
۲۶۳ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مولوی صاحب ! آخر لوگ کیا کہیں گے یہی کہیں گے تاکہ مرزا صاحب اپنی بیوی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔اس میں کونسی حرج کی بات ہے؟ حضرت مولوی صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی طبائع میں فرق ☆ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا ذکر چل پڑا ہے۔استاذی المکرم حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل حلالپوری جو ہمارے سلسلہ کے ایک جید عالم تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اپنے اپنے رنگ میں اخلاص اور محبت کے پھلے تھے لیکن دونوں کی طبائع میں نمایاں فرق تھا۔حضرت مولوی حکیم صاحب جب مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے تو حضور کی مجلس میں سب سے آخر خاموشی کے ساتھ بیٹھ جایا کرتے تھے اور جو کچھ حضور ارشاد فرماتے ، اسے بغور سنا کرتے تھے۔آپ نے کبھی کوئی سوال نہیں کیا بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقدس لوگ جو کچھ فرما ئیں، اسے توجہ سے سننا چاہئے۔لیکن حضرت مولانا عبدالکریم صاحب ہمیشہ حضرت اقدس کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے اور سوالات کرنے سے بھی ہچکچاتے نہیں تھے۔بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مامور دنیا میں روز روز نہیں آتے۔صدیوں بعد خوش قسمت لوگوں کو ان کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔اس لئے جو سوالات ذہن میں آئیں وہ پیش کر کے دنیا کی روحانی تشنگی کو بجھانے کا سامان پیدا کر لینا چاہئے بلکہ اپنے مخصوص انداز میں یوں فرمایا کرتے تھے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے باجے ہوتے ہیں جتنا ان کو بجا لیا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔اللہ! اللہ! خدا تعالیٰ کے مامور کو کیسے کیسے عشاق ملے تھے۔سچ تو یہ ہے کہ حضور ایک گلستان میں رہتے تھے جس کا ہر پھول اپنے اپنے رنگ میں دلکش اور دلنواز تھا۔کسی شاعر نے کیا سچ کہا ہے ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است یہ مصرعہ حضرت اقدس کے اصحاب پر خوب چسپاں ہوتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب نے 1991ء میں بیعت کی تھی۔اس لئے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ آپ نے خود ان مجالس کو دیکھا ہو جن میں یہ دونوں بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دربار میں بیٹھا کرتے تھے۔البتہ اس زمانہ میں چونکہ ان کو دیکھنے والے ہزاروں اصحاب موجود تھے۔اس لئے ان سے حالات معلوم کر کے بیان کرتے ہوگئے۔(مؤلف)