حیاتِ نور

by Other Authors

Page 239 of 831

حیاتِ نور — Page 239

۲۳۹ جلسه سالانه ۱۸۹۸ء جلسہ سالانہ ۱۸۹۸ء کی رپورٹ سے ظاہر ہے کہ اس جلسہ میں حضرت مولوی صاحب نے ضرورت خلافت کے موضوع پر ایک نہایت لطیف تقریر فرمائی۔جس میں بے بہا معارف قرآن بیان فرمائے۔مقدمہ حفظ امن مضمانت میں آپ کے حضرت اقدس کیساتھ سفر کر نا جنوری ۱۸۹۹ء مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی حضرت اقدس کے ساتھ عداوت کوئی ایسا امر نہیں جس سے کوئی با خبر احمدی نا واقف ہو۔مولوی صاحب مذکور نے شیخ محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ سے جو حضور کے ساتھ حد درجہ عداوت رکھتے تھے حضور کے خلاف یہ رپورٹ کروائی کہ (حضرت) مرزا صاحب میرے مخالف ہیں اور مجھے ان سے جان کا خطرہ ہے اس رپورٹ کی بنا پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور مسٹر ڈیکن نے حضور کے خلاف زیر دفعہ ۰۷ افوجداری مقدمہ بنا دیا۔مگر واقعات کچھ ایسے تھے کہ ساتھ ہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے خلاف بھی اس دفعہ کے ماتحت مقدمہ بن گیا۔۵/ جنوری ۱۸۹۹ء کو مقدمہ کی پیشی گورداسپور میں تھی۔مگر ڈپٹی کمشنر کے تبدیل ہو جانے کی وجہ سے مقدمہ کی پیشی کے لئے ار جنوری ۱۸۹۹ء کا دن مقرر ہوا۔اور نئے ڈپٹی کمشنر مسٹرڈوئی کی عدالت میں پیش ہوا۔اس مقدمہ کے دوران حضور کو پٹھانکوٹ اور دھار یوال بھی جانا پڑا۔ان سفروں میں حضور کے ساتھ حضرت خلیفہ المسیح الاول اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی بھی تھے۔خوش آواز ہونے کی وجہ سے عام نمازیں تو حضرت مولوی عبد الکریم ہی پڑھایا کرتے تھے۔مگر دھار یوال میں خطبہ جمعہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پڑھا جو بیحد پر اثر اور لطف انگیز تھا۔وہ تمام لوگ جو حضرت اقدس کی زیارت کے لئے جمع ہو گئے تھے خصوصا کارخانہ دھاریوال کے مردوزن اور انگریز افسر، ان تمام نے خطبہ بڑے غور سے سنا۔حضرت مولوی صاحب میں ایک امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپ کا کلام نہایت ہی حکیمانہ طرز پر ہوا کرتا تھا۔آپ کو مسافر خانہ میں، اسٹیشن پر اور گاڑی میں جہاں کہیں موقعہ ملا آپ نے حضرت اقدس کی صداقت پر ایسے دلنشیں پیرائے میں تقریر فرمائی کہ سامعین عش عش کر اُٹھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی طرح آپ میں بھی یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی کہ آپ اپنی تقریر کو تجربہ شدہ اور مشاہدہ میں آئے ہوئے دلائل سے دلیل فرماتے۔