حیاتِ نور

by Other Authors

Page 233 of 831

حیاتِ نور — Page 233

۲۳۳ مدرسہ کے انتظام کے لئے ایک مجلس ناظم التعلیم قائم کی گئی۔جس کے سیکریٹری خواجہ کمال الدین صاحب، پریذیڈنٹ حضرت مولوی صاحب اور سر پرست حضرت اقدس مقرر ہوئے۔اس مجلس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مدرسہ کا افتتاح یکم جنوری ۱۸۹۸ء کو کیا جائے مگر جلسہ سالانہ کی مصروفیات کی وجہ سے بجائے یکم جنوری کے اس کا افتتاح ۳ / جنوری ۱۸۹۸ء کو ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نے اپنی ابتدائے خلافت میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کا محرک نورالدین اور مرزا خدا بخش تھے۔اور فرمایا: ہماری نیک نیتی تھی کہ جولوگ یہاں رہتے ہیں اور جو احباب قادیان سے باہر ہیں۔انہیں اپنی اولاد کو آخر وقتی ضروریات کے باعث تو سکولوں میں بھیجنا ہی پڑتا ہے اور خرچ کے متحمل ہوتے ہیں اور پھر ان سکولوں اور بورڈنگوں کی ناگوار برائیوں میں پھنے کا احتمال ہے اس لئے اگر وہ لوگ اس سکول میں اپنے بچوں کو بھیجد میں اور وہی خرچ جو اُن کو ان سکولوں میں دینا پڑتا ہے، یہاں دے دیں تو ان کے بچے بورڈنگوں میں جو امور مضر اخلاق وصحت پیدا ہوتے ہیں ان سے نسبتاً محفوظ رہیں گے۔حضرت صاحب نے بھی اس کو جائز رکھا۔اس مدرسہ کے قیام میں چونکہ زیادہ دلچسپی حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ لے رہے تھے۔اس لئے کچھ عرصہ بعد آپ کو اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔اور آپ کی تجویز کے مطابق ایک کونسل ٹرسٹیاں اُن اصحاب پر مشتمل مقرر کی گئی جو مدرسہ کو کم از کم ساٹھ روپے سالانہ دیں۔چنانچہ اس تجویز کے مطابق ۲۱ اشخاص کونسل ٹرسٹیاں کے ممبر قرار دیئے گئے۔۲۹ ستمبر 19ء کو بیت السلام قادیان میں بصدارت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کونسل ٹرسٹیاں کا اجلاس ہوا۔جس کے پریذیڈنٹ حضرت نواب صاحب ، وائس پریذیڈنٹ حضرت مولوی نورالدین صاحب، سیکریٹری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور جائنٹ سیکریٹری جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے قرار پائے۔اور ان 19ء کے لئے پانچ ہزار تین سو اٹھارہ روپے کا بجٹ (بشمول ڈیڑھ ہزار روپیہ برائے عمارت مدرسہ و بورڈنگ ) منظور ہوا۔اور میر مجلس اور فنانشل سیکریٹری حضرت مولوی صاحب اور جنرل سیکریٹری مولوی محمد علی صاحب ایم اے قرار پائے۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اس مدرسہ کو چلانے میں سب سے زیادہ دلچسپی حضرت نواب صاحب