حیاتِ نور — Page 213
اب سارم ٢١٣ جو انسان میں پیدا ہو کر اس سے طرح طرح کے جرائم کراتی ہیں۔اس کا انسداد قانون گورنمنٹ سے باہر ہے۔گورنمنٹ کا قانون انہیں نہیں روک سکتا۔ایسا قانون مذہب ہے جو ان امور سے ہم کو روکتا ہے۔ہمارے بعض افعال سے وہ ناراض ہوتا ہے۔أَفَمَنُ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنُ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوْنَ یعنی مومن اور فاسق ایک ایسے نہیں۔اپنے معتقدات اور اعمال کے لحاظ سے وہ ایک دوسرے کے مساوی نہیں۔ایسے ہی ان کے اعمال یکساں نتائج مرتب نہیں کرتے۔یہ ایک مذہب کا ہی قانون ہے جس نے فاسق کو ان امور کے لئے مجرم ٹھہرا کر اسے ان کے ارتکاب سے روکا ہے جن کا انسداد گورنمنٹ کے قانون سے باہر ہے۔چنانچہ بعض ایسی سیاہ کاریاں بھی تھیں جو اگر چہ عقلاً نقلا بُری نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔اور اہالیان گورنمنٹ اور ایسے ہی سوسائٹی کے دوسرے افراد اسے کامل بداخلاقی سمجھتے ہیں۔لیکن نہ تو بذات خود گورنمنٹ بحیثیت گورنمنٹ اور نہ افراد سوسائٹی کوئی حکمی انسداد اس کے بند کرنے کا اپنے پاس رکھتے ہیں۔مثلاً شراب خوری یا عیاشی جس میں فریقین راضی ہوں۔ایسے جرائم اور سیہ کاریوں کے انسداد کے لئے اگر کوئی قانون مفید ہو سکتا ہے تو وہ صرف مذہب کا ہی قانون ہے۔جو نہ صرف ایسے جرائم کو ہی روکتا ہے بلکہ ان خیالات اور خطرات نفس پر بھی اس کی حکومت ہے جو ان جرائم اور بیج اخلاقیوں کے محرک ہوتے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب انسان مدنی الطبع ہونے کی صورت میں ایک قانون کا طبعا اور مجبوراً محتاج ہے تو وہ قانون صرف شریعت الہی ہے جس میں سیاست مدن کی تکمیل کما حقہ ہو سکتی ہے اور یہی شریعت اصلاح انسانی کے لئے اپنے اندر وہ طاقت رکھتی ہے اور اس شریعت کو انسانی طبیعت پر اس قدر غلبہ ہے جو کسی گورنمنٹ کے قانون کو خواہ اس میں کیسی ہی جابرانہ طاقت کیوں نہ ہو، نصیب نہیں۔لہذا مذ ہب میں انسان کو دلچسپی پیدا کرنا گورنمنٹ کے قوانین امن کی حفاظت کی ضرورت سے ہی نہیں بلکہ صدمات سے محفوظ رکھنے کا پہلا باعث ہے۔اس ضروری چیز کے لئے فکر چاہئے۔فکر ہی تو ضرورتوں کے موافق سامان بن جاتا ہے۔اس وقت جب ہمیں طرح طرح کے سامان خدا ـور