حیاتِ نور — Page 207
ـارم ۲۰۷ ـاتِ نُ ـور وہاں آپ کے بہت سے شاگرد بھی جمع ہو گئے تھے۔جن میں سے حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس سارے قافلہ کے قیام و طعام کا بہترین انتظام حضرت نواب صاحب کی طرف سے ہوتا تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے ایک خط سے جو انہوں نے یکم مئی ۹۷ ء کو حضرت نواب صاحب کی خدمت میں لکھا، ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب وہاں بیمار ہو گئے تھے جس کی وجہ سے حضرت اقدس کو بہت فکر پیدا ہوگئی تھی۔وہ خط یہ ہے: " بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم مکرم معظم خاں صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته حضرت مولوی صاحب کی بیماری کی خبر نے جو کئی روز ہوئے ، یہاں پہنچی تھی تمام متعلقین کو نعل در آتش کر رکھا ہے اور سب کے سب اس حیرت میں ہیں کہ پھر بعد اس کے کوئی خبر اُن کی نسبت نہیں ملی۔آپ از راہ کرم کچھ اطمینان آمیز خبر دے سکتے ہیں؟ عاجز عبدالکریم سیالکوٹی یکم مئی از قادیان مکرم میاں عبدالرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ : ان ایام میں مالیر کوٹلہ میں بھیرہ کے رہنے والے ڈاکٹر بھگت رام ساپنی پریکٹس کرتے تھے۔ہم وطن ہونے کے علاوہ وہ کشمیر میں بھی ملازم رہ چکے تھے۔وہ حضرت مولوی صاحب کی بہت عزت و تکریم کرتے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا کہ میں کہیں نہیں جاتا اور مجھے ایک ہزار روپیہ ماہور آمد ہو جاتی ہے۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں بھی کہیں نہیں جاتا پھر بھی مجھے اتنی ہی آمد ہو جاتی ہے۔ان ایام کا ذکر کر کے حضرت مولوی صاحب ایک مکتوب میں نواب صاحب کو نصیحت کرتے ہوئے اپنی آمدنی اور غیب سے رزق کا سامان مہیا ہونے کا یوں ذکر فرماتے ہیں۔میرا عریضہ توجہ سے پڑھیں اور ایک آیت ہے قرآن کریم میں اس پر پوری غور فرماویں وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرِجَا وَيَرْزُقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا