حیاتِ نور — Page 1
ـور بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيرِ نحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيرِط سہلایار شجرہ نسب عہد طفولیت اور زمانہ طالب علمی حضرت مولانا حاجی حافظ حکیم نور الدین خلیفہ المسح الاول رضی اللہ تعالی عنہ کے نسب نامہ سے ظاہر ہے کہ آپ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے تھے۔آپ کے بزرگوں میں سے متعدد افراد اولیاء اللہ میں سے ہوئے ہیں۔آپ کے خاندان کو قرآن مجید کے حفظ کرنے کی طرف بھی بہت توجہ رہی ہے۔چنانچہ آپ کے شجرہ نسب سے ظاہر ہے کہ آپ سے لے کر اُوپر گیارہویں پشت تک تمام بزرگ قرآن مجید حفظ کرتے چلے آئے ہیں۔آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت حافظ غلام رسول تھا۔آپ بھیرہ ضلع شاہ پور کے باشندے تھے۔قرآن کریم سے آپ کو اس قدر عشق تھا کہ ہزار ہا روپیہ صرف کر کے بمبئی سے قرآن مجید لا کر پنجاب کے شہروں اور دیہات میں پھیلایا کرتے تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ اعوان قوم میں سے تھیں بنور بخت نام تھا۔اور میاں قادر بخش صاحب سکنہ کہا نہ * کی صاحبزادی تھیں۔حضرت نور بخت صاحبہ اس زمانہ کے دیندار گھروں کے رواج کے مطابق قرآن کریم کا ترجمہ اور کچھ فقہ کی کتا میں شہر کے چھوٹے بچوں کو پنجابی زبان میں پڑھایا کرتی تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی قرآن کریم اور چند فقہ کی کتابیں اپنی والدہ ماجدہ ہی سے پڑھی تھیں۔آپ چونکہ نجیب الطرفین تھے۔اس لئے آپ کے بچپن کا ماحول بھی نہایت ہی پاکیزہ تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے والدین نے نہ تو کسی بچے کو سزادی اور نہ گالی۔آپ کی والدہ محترمہ جن سے سینکڑوں لڑکوں اور لڑکیوں نے قرآن کریم پڑھا ہے۔وہ اگر کسی بچے سے ناراض ہوتی تھیں تو یہ کہا کرتی تھیں کہ محروم نہ جاویں یا نا محروم کے کہا نہ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں ایک گاؤں ہے۔وہ رہ سے انداز اگیارہ بارہ میل کے فاصلہ پر دریائے جہلم کے پار واقعہ ہے۔نوٹ : " نا محروم " محروم نہ رہنے کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔(مؤلف)