حیاتِ نور — Page 186
ـاتِ نُـ ـور IAT بات سے بات نکلتی ہے۔حضرت مولوی صاحب کی اطاعت امام کا ذکر آ گیا ہے۔دل چاہتا ہے کہ اس موقعہ پر چند ایک معروف واقعات اور بھی بیان کر دئیے جائیں تاکسی عاشق رُوح کے لئے از دیا دایمان کا باعث بن جائیں۔حضرت مولوی صاحب کی فدائیت کے چند واقعات ا- -F حضرت مولوی شیر علی صاحب سے مروی ہے کہ ایک دفعہ راولپنڈی سے ایک غیر احمدی صاحب آئے جو اچھے متمول آدمی تھے اور انہوں نے حضرت اقدس سے درخواست کی کہ میرا فلاں عزیز بیمار ہے۔حضور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو اجازت دے دیں کہ آپ میرے ساتھ راولپنڈی تشریف لے چلیں اور اس کا علاج کریں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم مولوی صاحب کو یہ بھی کہیں کہ آگ میں گھس جاؤ یا پانی میں کود جاؤ تو اُن کو کوئی عذر نہیں ہوگا۔لیکن ہمیں بھی تو مولوی صاحب کے آرام کا خیال چاہئے۔ان کے گھر میں آج کل بچہ ہونے والا ہے۔اس لئے میں ان کو راولپنڈی جانے کے لئے نہیں کہہ سکتا۔مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد حضرت مولوی صاحب حضرت صاحب کا یہ فقرہ بیان کرتے تھے اور اس بات پر خوش ہوتے تھے کہ حضرت صاحب نے مجھ پر اس درجہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔ماسٹر اللہ دتہ صاحب سیالکوٹی کا بیان ہے کہ: 1900ء یا ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے کہ میں دارالامان میں موجود تھا۔ان دنوں ایک نواب صاحب حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمت میں علاج کے لئے آئے ہوئے تھے۔جن کے لئے ایک الگ مکان تھا۔ایک دن نواب صاحب کے اہلکار حضرت مولوی صاحب کے پاس آئے جن میں ایک مسلمان اور ایک سکھ تھا اور عرض کیا کہ نواب صاحب کے علاقہ میں لاٹ صاحب آنے والے ہیں۔آپ ان لوگوں کے تعلقات کو جانتے ہیں۔اس لئے نواب صاحب کا منشا ہے کہ آپ اُن کے ہمراہ وہاں تشریف لے جائیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں اپنی جان کا مالک نہیں۔میرا ایک آتا ہے۔اگر وہ مجھے بھیج دے تو مجھے کیا انکار ہے۔پھر ظہر کے وقت وہ اہلکار مسجد میں بیٹھ گئے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں و