حیاتِ نور

by Other Authors

Page 185 of 831

حیاتِ نور — Page 185

۱۸۵۰ لا تصبون الى الوطن فيه تهان و تمتحن پھر ایک موقعہ پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مولوی صاحب ! اب آپ اپنے وطن بھیرہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں دل میں بہت ڈرا کہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں وہاں کبھی نہ جاؤں مگر یہ کس طرح ہوگا کہ میرے دل میں بھی بھیرہ کا خیال نہ آوے مگر آپ فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ کے بھی عجیب تصرفات ہوتے ہیں۔میرے واہمہ اور خواب میں بھی مجھے وطن کا خیال نہ آیا۔پھر تو ہم قادیان کے ہو گئے۔لے ناظرین کرام ! غور فرمائیے۔ایک شخص ہزاروں روپے خرچ کر کے اپنے وطن میں ایک عالیشان مکان تعمیر کرتا ہے مگر امام کی اطاعت کا جذبہ اس حد تک اس پر مستولی ہے کہ وہ اتنا بھی عرض نہیں کرتا کہ حضرت! مجھے اجازت دی جائے کہ میں اس مکان کو فروخت کر آؤں تا وہ روپیہ ہی میرے کام آوے بلکہ یہ بھی نہیں کرتا کہ کسی اور کے ذریعہ سے ہی اس مکان کی فروختگی کا انتظام کرے کیونکہ اس صورت میں بھی اسے اندیشہ تھا کہ مبادا حضرت اقدس کے اس فرمان کی خلاف ورزی ہو جائے کہ ”مولوی صاحب! اب آپ اپنے وطن بھیرہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں“۔بس ادھر حکم ملا۔ادھر آ منا وصدقنا حضرت ماسٹر عبدالرؤف صاحب بھیروی فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ بھیرہ کے کسی رئیس نے آپ کی خدمت میں چٹھی لکھی کہ میں بیمار ہوں اور آپ ہمارے خاندانی طبیب میں مہربانی فرما کر بھیرہ تشریف لا کر مجھے دیکھ جائیں۔آپ نے اس رئیس کو لکھا کہ میں بھیرہ سے ہجرت کر چکا ہوں اور اب حضرت مرزا صاحب کی اجازت کے بغیر میں قادیان سے باہر کہیں نہیں جاتا۔آپ کو اگر میری ضرورت ہے تو حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں لکھو۔چنانچہ اس رئیس نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا۔حضرت نے فرمایا۔مولوی صاحب! آپ بھیرہ جا کر اس رئیس کو دیکھ آئیں۔جب آپ بھیرہ پہنچے تو اس رئیس کا مکان بھیرہ کے ارد گرد جو گول سڑک ہے اس پر تھا۔اُسے آپ نے دیکھا اور نسخہ تجویز فرما کر فورا واپس تشریف لے آئے۔نہ اپنے آبائی مکانوں کو دیکھانہ نئے زیر تعمیر مکان تک گئے ، نہ عزیزوں سے ملاقات کی ، نہ دوستوں سے ملے بلکہ جس غرض کے لئے حضرت اقدس نے آپ کو بھیجا تھا جب وہ غرض پوری ہو گئی تو فور اواپس تشریف لے آئے۔ترجمہ یعنی اپنے وطن کی طرف ہر گز رخ نہ کر اور نہ تمہاری اہانت ہوگی اور تمہیں تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔