حیاتِ نور

by Other Authors

Page 167 of 831

حیاتِ نور — Page 167

192 دوران قیام کشمیر کے بعض متفرق واقعات ابھی تک چونکہ آپ ریاست جموں و کشمیر کی ملازمت ہی میں تھے اور ضرورت پڑنے پر حضرت اقدس آپ کو بلا لیا کرتے تھے۔لیکن اب وہ وقت آ گیا تھا اور ایسے اسباب پیدا ہو رہے تھے جن کی بنا پر آپ کو ریاست سے ہمیشہ کے لئے علیحدہ ہونا تھا۔اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قیام کشمیر کے زمانہ کے بعض چیدہ چیدہ واقعات بیان کر دیئے جائیں۔محترم حکیم محمد صدیق صاحب کی روایت ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ: ایک دفعہ تین ساتھیوں کے ساتھ ہم راستہ بھول گئے۔اور کہیں دُور نکل گئے۔کوئی بستی نظر نہیں آتی تھی۔میرے ساتھیوں کو بھوک اور پیاس نے سخت ستایا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ نورالدین جو کہتا ہے کہ میرا خدا مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح کھلاتا پلاتا ہے۔فرمایا کرتے تھے میں دعا کرنے لگا۔چنانچہ جب ہم آگے گئے تو پیچھے سے زور کی آواز آئی۔ٹھہر وانٹھہبر وجب دیکھا تو دوشتر سوار تیزی کے ساتھ آ رہے تھے۔جب پاس آئے تو انہوں نے کہا۔ہم شکاری ہیں۔ہرن کا شکار کیا تھا اور خوب پکایا۔گھر سے پراٹھے لائے تھے۔ہم سیر ہو چکے ہیں اور کھانا بھی بہت ہے۔آپ کھا لیں چنانچہ ہم سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ساتھیوں کو یقین ہو گیا کہ نور الدین سچ کہتا تھا“۔فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا نورالدین کے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تیری ہر ضرورت کو پورا کروں گا کیا کوئی بادشاہ بھی یہ دعوی کر سکتا ہے"۔محترم حکیم صاحب موصوف ہی کی ایک اور روایت ہے اور گو اس کا تعلق سکونت کشمیر کے ساتھ نہیں۔بلکہ خلافت کے زمانہ کے ساتھ ہے مگر موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے یہاں ہی ذکر کیا جا رہا ہے۔فرمایا: ایک دفعہ ہمیں قیموں اور بیواؤں کا خرچ دینے کے لئے تین سو روپے کی ضرورت تھی۔گھر میں بھی خرچ دینا تھا۔بخاری کا درس دے رہا تھا اور یہ فکر بھی دامنگیر تھا۔اسی وقت چٹھی رساں تین سو روپے کا منی آرڈر لایا اور وہ منی آرڈر ایسے شخص کی طرف سے تھا جو میر ا واقف بھی نہیں تھا۔چنانچہ وہ سب ہم نے باہر ہی تقسیم کر دیا۔کسی کو دس کسی کو ہیں، باقی پانچ روپے بچے جو بیوی کو جا کر دیے