حیاتِ نور — Page 154
۱۵۴ ـور اخلاص کا چشمہ پھوٹ پڑتا ہے جو ایمان کے پودے کی آبپاشی کرتا ہے۔غرض حضرت مولوی نورالدین صاحب بیعت کر لینے کے بعد پھر واپس اپنی ملازمت پر جموں و کشمیر تشریف لے گئے اور دن بدن اخلاص اور عرفان میں ترقی کرتے گئے اور اس کے بعد جلد جلد قادیان آنا شروع ہوا۔حضرت اقدس بھی ہمیشہ آپ کا خیال رکھتے تھے اور بعض اوقات خود بھی بلا لیا کرتے تھے۔چنانچہ حضور کا اس زمانہ کا ایک خط ذیل میں درج کیا جاتا ہے جس سے اس امر کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضور حضرت مولوی صاحب کے ساتھ آپ کے اخلاص اور قربانی اور معرفت الہی میں ترقی کرنے کی وجہ سے کس درجہ محبت رکھتے تھے۔محدو می کرمی السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔عنایت نامہ پہنچا۔بلاشبہ کلام الہی سے محبت رکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبہ سے عشق پیدا ہونا اور اہل اللہ کے ساتھ قلب صافی کا تعلق حاصل ہونا یہ ایک ایسی بزرگ نعمت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص اور مخلص بندوں کو ملتی ہے اور دراصل بڑی بڑی ترقیات کی یہی بنیاد ہے اور یہی ایک تخم ہے جس سے ایک بڑا درخت یقین اور معرفت اور قوت ایمانی کا پیدا ہوتا ہے اور محبت ذاتیہ اللہ تعالیٰ کا پھل اس کو لگتا ہے۔فالحمد للہ ثم الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ نعمت جو راس الخیرات ہے عطا فرمائی۔پھر بعد اس کے جو کسل اور قصور اعمال حسنہ میں ہو وہ بھی انشاء اللہ القدیر حسنات عظیمہ کے جذب سے دور ہو جائے گا۔اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ۔آپ کی ملاقات کا بہت شوق ہے۔جیسے آپ کے اخلاص نے بطور خارق عادت اس زمانہ کے ترقی کی ہے ایسا ہی جوش حب اللہ کا آپ کے لئے اور آپ کے ساتھ بڑھتا گیا ہے۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس درجہ میں آپ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک ہو اس لئے اکثر لوگوں کے دلوں پر جو دعویٰ تعلق رکھتے ہیں، خدا تعالیٰ نے قبض وارد کی اور آپ کے دل کو کھول دیا - هذا فضل الله و نعمته يعطى من يشاء يهدى من يشاء ويضل من يشاء حامد علی سخت بیمار ہو گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو دوبارہ زندگی بخشی ہے۔جس وقت آپ تشریف لاویں اگر حکیم فضل الدین صاحب و مولوی عبدالکریم