حیاتِ نور

by Other Authors

Page 144 of 831

حیاتِ نور — Page 144

۱۴۴ کہ ان کے علم سے اسلام کی کوئی خاص خدمت ہو اور اس خدمت کے واسطے معقول مشاہرہ اور اس کے علاوہ زمین دینے کا ارادہ ظاہر کیا تو شیطان کے بہکانے سے انہوں نے اس خدمت میں مصروف ہونے سے انکار کر دیا۔اور دنیا داری کے کاموں میں داخل ہو کر اخلد الی الارض کے مصداق ہوئے۔جب میں جموں پہنچا۔تو اس وقت یہ ہر دو عبرانی دان اپنا بستر بوریا باندھ کر رخصت ہورہے تھے۔" حضرت خلیفہ اسیح الاول نے ایک دفعہ ان لڑکوں میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ایک نو مسلم لڑکے کی تعلیم پر میں نے ہزار ہا روپیہ خرچ کیا۔اس نے مجھ کو ایک کارڈ لکھا کہ میں تمہارے اس ناپاک مذہب سے پھرتا ہوں اور اب گنگا نہانے یعنی پوتر ہونے جاتا ہوں۔میں نے اس کو لکھا کہ تمہارا روح افزا کارڈ پہنچا۔اگر تم ایک مرتد ہو گے تو اللہ تعالیٰ ہم کو ایک جماعت دے گا اور یہ آیت بھی لکھی کہ ياايها الذين امنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتي الله۔۔الخ (مائدہ) جس وقت یہ کا رڈلکھا تھا اس وقت سید حامد شاہ بھی کشمیر ہی میں میرے پاس تھا۔وہ لڑکا اب ہماے مریدوں میں ہے۔اوپر کی تحریرات سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔اول: سرسید مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رسالہ برکات الدعا پڑھنے کے بعد اپنے پرانے خیالات کو چھوڑ کر اس امر پر ایمان لا چکے تھے کہ اس دنیا میں بھی دعا اپنا اثر دکھاتی ہے اور نصرت الہیہ کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔دوم: کسی انسان میں دین کی اشاعت کا جوش اور تڑپ محض اعلی تعلیم دلوا کر پیدا نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے ایک ایسے شخص کی جو مامور من اللہ ہو اور اپنے انفاس قدسیہ سے ایک روحانی جماعت پیدا کرے اور پھر جماعت کے نیک دل افراد اپنی زندگیاں اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کریں۔۱۸۸ء میں چونکہ حضرت مولوی صاحب حضرت اقدسن سے راہ و رسم پیدا کر چکے تھے اور حضور کے تبلیغی جوش کو بھی دیکھ چکے تھے مگر چونکہ حضور نے ابھی کوئی اپنی جماعت نہیں بنائی تھی جس سے منتظم