حیاتِ نور

by Other Authors

Page 110 of 831

حیاتِ نور — Page 110

11۔سنگباری کرے۔میں اس خواہش کے پورا ہونے کا دلی امیدوار تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو اصدق القائلین ہے اپنی کتاب مبین میں مومنوں کو بشارت دی تھی۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمُ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔۔۔۔الخ نیز اللہ تعالٰی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ارشاد فرمایا۔ما يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَإلَّا وَحْيٌ يُوحی۔آپ نہایت صادق اور نہایت امین تھے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی اس امت میں ہر صدی کے سر پر ایسے شخص کو مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کی تجدید کریگا۔پس میں خدا تعالیٰ کی اس رحمت کے انتظار کرنے والوں میں سے تھا۔اور اسی مقصد کی خاطر میں نے حق دیقین کے انوار کے مبط یعنی بیت اللہ الحرام کا قصد کیا۔میں جنگلوں کو عبور کرتا تھا اور صحراؤں میں سے گزرتا تھا اور ربانی بندوں میں سے اس بندے کو تلاش کر رہا تھا۔مین نے مکہ مکرمہ میں جو مبارک جگہ ہے اپنے شیخ حضرت حسین المہاجر جو نہایت متقی اور زاہد تھے کے چہرہ پر نظر ڈالی۔ایسا ہی اپنے بزرگ شیخ محمد الخزرجی الانصاری کو دیکھا اور مدینہ منورہ میں مجھے اپنے بزرگ شیخ اور سردار و آقا الشیخ عبد الغنی المجد وی الاحمدی سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔یہ سب بزرگ میرے گمان کے مطابق متقی اور ابرار تھے۔اللہ تعالیٰ میری طرف سے ان کو جزائے خیر دے۔(اے رب العالمین ! تو ایسا ہی کر ) یہ سب بزرگ شیوخ رحمہم اللہ تقویٰ اور علم کے بلند مقام پر قائم تھے۔لیکن نِ اسلام کے دشمنوں کے مقابلہ پر کھڑے نہ تھے اور نہ ہی دشمنان اسلام کے شبہات کا ازالہ و استیصال کرنے والے تھے بلکہ وہ اپنے زاویوں میں عبادت میں منہمک رہتے تھے۔اور علیحدگی میں اپنے رب کی مناجات میں مشغول۔میں نے علماء میں کسی سے شخص کو عیسائیوں، آریوں، برہموؤں، دہریوں، فلسفیوں معتزلہ اور ایسے ہی دیگر گمراہ کرنے والے فرقوں کی تبلیغ کی طرف متوجہ نہ دیکھا۔بلکہ میں نے دیکھا کہ ہندوستان میں نو لاکھ سے زائد طلباء نے علوم دینیہ کو