حیاتِ نور

by Other Authors

Page 103 of 831

حیاتِ نور — Page 103

١٠٣ ہوئی کہ ولیعہد صاحب آئے۔انہوں نے کہا۔کیوں اتر پڑے؟ میں نے کہا کہ میں سواری نہیں کر سکتا۔میری طبیعت اچھی نہیں۔ولی عہد صاحب یہ کہہ کر کہ اچھا کیمپ میں آؤ وہاں بندوبست ہو جائے گا۔اور سر پٹ گھوڑا دوڑا کر چلے گئے۔میں نے کہا کہ ایک بُت تو ٹوٹ گیا۔لیکن نفس امارہ نے پھر بھی یہ سمجھا کہ اس کے دوسرے بھائی آئیں گے۔چونکہ وہ میرا ہی علاج کرتے تھے اور مجھ سے ان کا بہت تعلق تھا۔وہ آئے اور بڑی ہمدردی سے کھڑے ہو گئے۔میں نے کہا کہ میں سوار نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ آپ کیمپ میں پہنچے۔اور سر پٹ گھوڑا دوڑا کر چل دیئے۔پھر اُن کے تیسرے بھائی آئے اور وہ بھی بدستور دریافت کر کے چل دیئے۔پھر راجہ صاحب آئے۔انہوں نے بڑی محبت سے میرا حال دریافت کیا اور کہا کہ آپ سوار ہو جائیں۔میں نے کہا کہ میں گھوڑے کی سواری نہیں کر سکتا۔انہوں نے فرمایا کہ یہاں سے دو چار میل کے فاصلے پر کیمپ ہے آپ وہاں پہنچیں۔سب بندوبست ہو جائے گا۔یہ فرما کر وہ بھی روانہ ہو گئے۔دہ پھر کیمپ کے مہتمم صاحب جو وہی ایک سب سے پیچھے تھے آئے اور انہوں نے بھی سابق رؤسا کی طرح کام لیا۔اب میں لا الہ الا اللہ کی طرف متوجہ ہوا کہ اللہ تعالٰی کے سوا جو دوسرے پر امید رکھتا ہے بڑی غلطی کرتا ہے۔" دیوان پیچھمن داس کا سلوک آپ فرماتے ہیں: اب میری امید گاہ صرف اللہ تعالیٰ ہی تھا۔اتنے میں دیوان پچھمن داس نام جو ان دنوں فوجی افسر تھے، گزرے۔انہوں نے جب مجھے دیکھا تو معا اُتر پڑے اور کہا کہ کیا تکلیف ہے؟ میں نے کہا کہ میرے ایک پھنسی ہے۔اس لئے میں سوار نہیں ہو سکتا۔آپ تشریف لے چلیں۔لیکن انہوں نے کہا کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہاں اس حالت میں چھوڑ کر ہم آگے چلے جائیں۔غرضیکہ وہ اتر کر میرے پاس ہی بیٹھ گئے اور باتیں کرتے رہے۔اتنے میں انکی پالکی آئی۔انہوں نے میرے پاس سے اُٹھ کر اپنے آدمی کو علیحدہ لے جا کر کچھ حکم دیا۔اس کے بعد خود گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔اُن کا آدمی پالکی لے کر میرے پاس