حیاتِ نور

by Other Authors

Page 99 of 831

حیاتِ نور — Page 99

ور ۹۹ میں نے اُن سے کہا کہ میرے رکھنے میں آپ کو بڑی تکلیف ہوگی کیونکہ یہاں دو فلاں فلاں آدمی ہیں جن کو مجھ سے نقار ہے اور چونکہ دونوں بڑے آدمی ہیں اور میرے ساتھ خاص طور پر نقار رکھتے ہیں۔پس مناسب نہیں کہ میرے سبب سے آپ درباری آدمیوں سے مخالفت پیدا کرلیں۔۲ لیکن وہ بہادر آدمی تھے۔انہوں نے فرمایا کہ ہم کو کچھ پروا نہیں۔چنانچہ انہوں نے آپ کو اپنے مکان پر دس برس تک رکھا۔اس اثناء میں آپ کو یا آپ کے طلباء میں سے کسی کو بھی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔آپ فرماتے ہیں: میں اب تک ان کے وسعت حوصلہ پر حیران ہوں اور مجھ کو افسوس ہوتا ہے کہ میں اتنازی حوصلہ نہیں۔اور یہ بات ان کی ذات ہی سے وابستہ نہیں تھی بلکہ اُن کے گھر کے تمام چھوٹے بڑے سب ایک ہی رنگ میں رنگین دیکھے۔جب میں وہاں تھا تو میں نے ایک شادی اس زمانہ میں کی۔جب میری بیوی گھر آئی تو انگلی بہن نے اس کے ساتھ ایسے نیک سلوک کئے جیسے ایک ماں اپنی بیٹی سے کرتی ہے۔قربانی کی اہمیت ابھی آپ ریاست جموں و کشمیر میں تشریف نہیں لے گئے تھے بلکہ بھیرہ ہی میں قیام تھا۔غالباً ۱۸۷۲ ء کی بات ہے کیونکہ روم اور روس میں جنگ ہو رہی تھی اور ہندوستان میں ہر روز خبریں مشہور ہوا کرتیں تھیں کہ آج اس قدر آدمی مارے گئے اور آج اس قدر مارے گئے۔آپ کا گھر ماشاء اللہ سات بھائیوں اور دو بہنوں سے بھرا ہوا تھا اور سوائے آپ کے سارے ہی شادی شدہ تھے۔آپ نے اپنی والدہ محترمہ سے کہا کہ اماں جی ! دیکھئے ہمارے گھر میں ہر طرح امن و امان ہے اور کوئی فکر نہیں۔آپ اپنی اولاد میں سے ایک بیٹے کو یعنی مجھ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیجئے۔یہ مشکر آپ کی والدہ نے فرمایا کہ میرے سامنے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے"۔آپ فرماتے ہیں: میں خاموش ہو رہا۔اب سنو! تھوڑے ہی دنوں کے بعد ہمارے بھائی مرنے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ کی دوسری شادی تھی کیونکہ آپ کی پہلی شادی تو بھیرہ کے مفتیوں کے خاندان میں ہوئی تھی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیوی دوران ملازمت کشمیر ہی میں وفات پا چکی تھی تبھی تو حضرت اقدس مسیح موعود کو آپ کی دوسری شادی کی فکر پڑی جو حضور نے کوشش کر کے لودھیا نہ میں کروا دی۔(مؤلف)