حیاتِ نور

by Other Authors

Page 94 of 831

حیاتِ نور — Page 94

اب دوم ۹۴ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ میرے ایک دوست تھے جن کی عمر اسی برس کے قریب تھی میرے ساتھ وہ بڑی ہی محبت کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔میں نے اُن کو بہت ترغیب دی کہ آپ شادی کر لیں مگر وہ مضائقہ کرتے تھے۔میری وجاہت بھی ان کے دل پر بڑی تھی۔آخر مجھ سے کہا کہ مجھے شہوانی تحریک ہوتی ہی نہیں۔میرے خیال میں تھا کہ ایک باکرہ نوجوان کے ساتھ شادی کی تو تحریک ہو جائے گی۔لیکن ظاہر میں میں نے سم الفار، پارہ، افیمون کا مرکب معجون فلاسفہ کے ساتھ دیا۔انہوں نے شادی بھی کر لی۔اللہ تعالی کے عجائبات قدرت میں سے ہے کہ ان کے گھر میں حمل ہو گیا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تو وہ بہت ہی خوش ہوئے۔چونکہ بہت بڑے امیر تھے۔میں نے کہا۔آپ اس لڑکی کو کسی اور کا دودھ پلو ائیں لیکن اس کو انہوں نے مانا نہیں۔بہر حال دوسرے سال پھر حمل ہوا اور لڑکا پیدا ہوا۔جواب اللہ تعالیٰ کے فضل سے محمد حیات" نام اکسٹرا اسٹنٹ ہے اور مجھے ہمیشہ چچا ہی لکھا کرتا ہے۔خدائے تعالی اس کی حیات میں بہت برکت دے۔وہ میرے نہایت ہی پیارے دوست کی یادگار ہے۔میری طبی آمدنی اس وقت اتنی قلیل تھی کہ ہم میاں بیوی دو آدمیوں کے لئے بھی گونہ مشکلات پڑ جاتے تھے۔جب ان کے لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے بعض آدمیوں کو مبارکباد کے لئے میرے پاس روانہ کر دیا۔میری حالت تو خود بہت کمز ور تھی مگر مجھے کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑا۔پھر ایک دفعہ میں چھاؤنی شاہ پور میں گیا وہاں سے مجھے کچھ روپے مل گئے تھے۔میں اس خیال سے کہ انہوں نے مجھے کچھ مالی امداد نہیں دی، ان کے گاؤں میں چلا گیا۔وہ اپنے گاؤں کے بہت سے وہ لڑ کے جو اُن کے لڑکے قریب قریب پیدا ہوئے تھے۔جمع کر لائے اور سب کو کہا کہ تم سلام کرو۔مجھ کو ان لڑکوں کی تعداد اور جیب کے روپوں میں کچھ مناسبت معلوم نہ ہوئی تو میں نے جو کچھ میری جیب میں تھا۔سب ان کے لڑکے کو دیدیا۔اس کو انہوں نے نیک فال سمجھا گویا یہ لڑکا امیر ہوگا اور باقی لڑکے اس کے دست مگر حمد ملک محمد حیات صاحب کمشنر ہو کر ریٹائر ہوئے تھے۔ایک مرتبہ حضرت مولوی شیر علی کے ساتھ مری میں مجھے بھی ان سے ملاقات کا موقعہ ملا تھا۔حضرت مولوی صاحب نے انہیں قادیان آنے کی دعوت دی تھی۔جسے انہوں نے منظور کر لیا تھا لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے انہیں قادیان حاضر ہونے کا موقعہ نہیں مل سکا۔(مؤلف)