حیاتِ نور

by Other Authors

Page 88 of 831

حیاتِ نور — Page 88

AA سامنے ایک تنگ گلی نظر آئی۔میں نے کہا۔ادھر ہے۔فرمایا اس طرف تو ہماری بگھی نہیں جاسکتی۔اپنے دو آدمی میرے ساتھ کر دیئے اور کہا کہ اسباب لے آؤ۔میں ان آدمیوں کو ساتھ لئے ہوئے اس گلی میں پہنچا۔بلا کسی ارادہ کے چلا جاتا تھا کہ ایک مکان نظر پڑا کہ اس مکان میں بڑی کثرت سے لوگ جاتے ہیں اور آتے بھی ہیں۔اس مکان میں مخلوق کی اس قدر آمد ورفت دیکھ کر میں بھی بلا تکلف اس مکان میں گھس گیا۔جب ہم لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ نیچے ایک بہت بڑا دالان ہے اور او پر زینہ کے راستے بالا خانہ پر لوگ جا رہے ہیں۔میں نے اُن سپاہیوں کو اس دالان میں بٹھایا اور بلا تکلف سیڑھیوں پر چڑھ گیا۔اس وقت میرے دل میں ذرا بھی وسوسہ نہ آیا کہ یہ کس کا اور کیسا مکان ہے۔گویا قدرت کا ایک ہاتھ تھا جو مجھ کو پکڑ کر اوپر لے گیا۔وہاں کثرت سے آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔میں بھی اُن کی طرف متوجہ ہوا۔میں نے ان لوگوں میں سے صرف عبید اللہ صاحب ساکن بنت مصنف تحفتہ الہند کو پہچانا۔مجھے کو دیکھتے ہی وہ بڑے خوش ہو کر بولے کہ آپ کا آنا تو میرے لئے بڑا ہی مبارک ہوا ہے۔میرے ساتھ کچھ نو جوان نومسلم ہیں۔میں اسی فکر میں تھا کہ ان کو کہاں رکھوں۔اب آپ جیسا انسان اور کون مل سکتا ہے؟ آپ ان کو اپنے یہاں لے جائیں۔یقین ہے کہ آپ بڑی مہربانی سے رکھیں گے۔انہیں نومسلموں میں ہمارے دوست ہدایت اللہ بھی تھے جو بہت کمسن تھے۔میں نے کہا۔ہاں! میں بخوشی ان کی خدمت گزاری کو موجود ہوں۔مجھ کو بھی اپنے مکان پر واپس جاتا ہے۔آپ میرے ساتھ کر دیں۔مولوی صاحب نے کہا۔اُن کے ساتھ ان کے بسترے اور سب ضروری سامان موجود ہے۔میں نے کہا میرے آدمی نیچے بیٹھے ہیں وہ سب اُٹھا کر لے چلیں گے۔اُن کو دیدو۔اُن سپاہیوں سے اسباب اُٹھوا کر ہم بخیر و عافیت منشی صاحب کی خدمت میں پہنچ گئے۔وہ بہت ہی خوش اور احسانمند ہوئے اور ہم سب کو اپنی بگھیوں پر سوار کرا کر کیمپ میں لائے۔میں نے کہا کہ میں تھوڑے ہی دن آپ کے پاس رہ سکتا ہوں اور میاں محمد عمر کے رسولی ہے۔یہ بہت دنوں کے بعد جائے گی۔اور میں گھر میں اطلاع دے کر بھی نہیں آیا۔