حیاتِ نور

by Other Authors

Page 87 of 831

حیاتِ نور — Page 87

AL گا۔میں نے کہا مجھ کو دہلی جاتا ہے۔گولک ناتھ نے کہا۔میں جاتا ہوں اور ٹکٹ کا انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ گئے اور بہت ہی جلد ایک ٹکٹ دہلی کا لائے۔میں نے ٹکٹ اُن سے لے لیا۔اور جیب میں ہاتھ ڈالا تو پادری صاحب کہنے لگے۔آپ میری ہتک نہ کریں۔معاف کریں۔میں اس کے دام نہ لوں گا اور میں بھی تو دہلی جاتا ہوں۔راستہ میں دیکھا جائے گا۔میں رستہ میں ان کو تلاش کرتا رہا۔وہ نظر نہ آئے اور دہلی کے اسٹیشن پر بھی باوجود تلاش مجھ کو نہ ملے۔^1 دہلی میں نزول اور حضرت منشی جمال الدین کے نواسہ کا علاج اسٹیشن پر اتر اتو عصر کا وقت تھا۔میں آہستہ آہستہ اس سڑک پر چلا جس پر رؤسا کے خیمے نصب تھے۔میں غالباً پانچ میل نکل گیا۔اب چونکہ غروب آفتاب ہونے کو تھا۔میں نے واپسی کا ارادہ کیا۔اتنے میں ایک سپاہی جو حضرت منشی جمال الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا ملازم تھا۔دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ کو خشی صاحب تلملاتے ہیں۔انہوں نے آپ کو دیکھ کر مجھے بلانے بھیجا ہے۔میں نے کہا۔اب تو وقت تنگ ہے۔میں کل انشاء اللہ اُن کی خدمت میں آؤں گا۔اس نے کہا کہ وہ بہت اصرار سے آپ کو بلاتے ہیں۔میں نے پھر بھی کہا کہ کل آؤں گا۔اس نے کہا کہ پاس ہی تو اُن کا خیمہ ہے۔آپ ذرا تکلیف کر کے خود ہی اُن سے عذر کر لیں۔جب میں گیا تو وہ حسب عادت بڑی ہی مہربانی سے پیش آئے۔اور فرمایا کہ میرا ایک نواسہ محمد عمر نام بیمار ہے آپ اُس کو دیکھیں۔میں نے کہا کہ میں کل آ کر اس کو دیکھوں گا۔انہوں نے فرمایا کہ آپ آج رات کو یہیں رہیں۔کل ہم آپ کے مکان پر چلیں گے۔چنانچہ میرے لئے علیحدہ ایک آرام دہ خیمہ کھڑا کر دیا اور اگلے روز چونکہ جمعہ تھا۔انہوں نے یہ سمجھ کر کہ مکان پر جانے سے تو اُس کو ہم نے روک لیا ہے۔راتوں رات ہی میرے لئے کپڑے تیار کرا دیئے جو میں نے اگلے روز پہن لئے۔جمعہ کا وقت آیا تو ہم دونوں جامع مسجد گئے اور نماز پڑھی۔جس طرف حضرت مظہر جان جاناں ہمارے شیخ المشائخ کی قبر ہے اس طرف کی سیٹرھیوں سے وہ اُترے۔وہیں ان کی سمجھیاں کھڑی تھیں۔مجھ سے کہا کہ آپ کا مکان کہاں ہے؟ میں حیران ، مجھ کو