حیاتِ نور — Page 70
وہ تو اُسے ملے گا ہی، ہمارا اس پر ایمان ہے۔لیکن اس دنیا میں بھی خدا تعالیٰ نے اسے بغیر اجر نہ چھوڑا۔اس واقعہ کا ذکر میں نے اس لئے کیا ہے کہ تا ایسے لوگ نصیحت حاصل کریں جو اپنے بچوں کی شادیاں کرتے وقت صرف اور صرف دولت کو مدنظر رکھتے ہیں اور دین کا خیال ہی نہیں کرتے۔احمدی کہلانے کی وجہ سے زبان سے تو بیشک یہی کہیں گے کہ ہمیں تو دیندار بچے کی تلاش ہے۔لیکن اگر کوئی غریب مگر نیک بچہل جائے تو کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر کے اس سے پہلو تہی کر جائیں گے۔بوقت ضرورت ایک معمولی سی ملازمت حضرت خلیفہ المسیح الاول کے سوانح سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر مشکل سے مشکل اوقات بھی آئے لیکن آپ نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مخلوق کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے بلکہ اگر معمولی سے معمولی کام بھی کرنا پڑا تو اُسے عار نہیں سمجھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ ڈیڑھ روپیہ ماہوار کی نوکری ہیں کی۔اس شخص سے جس کی نوکری کی ، کچھ نہیں کہا کہ کس قدر علوم و کمالات سے واقف ہوں۔کچھ عرصہ کے بعد جب کام اور نوکری کا تعلق ختم ہو گیا۔ان کے یہاں گیا اور برابر گدیلے پر جا کر بیٹھ گیا اور کہا۔میں حکیم ہوں، محدث ہوں، ادیب ہوں وغیرہ۔وہ منکر حیران رہ گیا۔اور مجھ سے معافی مانگنے لگا ہے جلسه خیر مقدم اس ضمنی واقعہ کے ذکر کے بعد ہم پھر ان واقعات کی طرف رجوع کرتے ہیں۔جو آپ نے واقع فو قمع خود لکھوائے۔اُوپر آپ کے لاہور پہنچنے کا ذکر ہو چکا ہے۔کچھ دنوں قیام کے بعد آپ اپنے وطن مالوف بھیرہ کو روانہ ہو گئے۔ابھی آپ بھیرہ پہنچے ہی تھے کہ آپ سے ملاقات کے لئے دُور نزدیک سے لوگ آنے لگے۔چند ہی دن کے اندر اندر آپ کے اعزاز میں ایک جلسہ خیر مقدم منعقد کیا گیا۔اس جلسہ میں ایک مولوی صاحب نے بخاری شریف اور مؤلف بخاری حضرت مولانا شیخ محمد بن اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر نا ملائم الفاظ میں کیا جس سے آپ کو سخت دُکھ ہوا۔ہے ا نوٹ: اس ملازمت کے متعلق یہ پیہ نہیں چل سکا کہ یہ کس جگہ کا واقعہ ہے اور کس زمانہ میں آپ نے یہ ملازمت کی۔اندازاً