حیاتِ نور — Page 67
اس شخص کو جس کی یہ بیوی تھی جب خدا تعالیٰ نے مارد یا تو اب خدا تعالیٰ کی ماردیا کی مرضی ہی یوں تھی۔بمبئی سے لے کر بھیرہ پہنچنے کے مختصر حالات بمبئی سے روانہ ہونے سے قبل آپ نے اپنی کتب تو صندوقوں میں بند کر کے ریل گاڑی کے ذریعہ سے لاہور روانہ کر دیں اور خود راستہ میں دہلی اُتر پڑے۔وہاں اُترنے پر آپ کے ایک پرانے رفیق نے آپ سے ذکر کیا کہ تمہارے طبیب اُستاد یہاں دہلی میں ہیں۔آپ اُسے ساتھ لے کر حضرت اُستاد کی خدمت میں پہنچے۔انہوں نے دریافت فرمایا کہ حرمین سے کیا کیا لائے۔آپ نے بعض لطیف کتابوں کا ذکر کیا۔فرمایا وہ سب مجھے دیدو۔آپ نے انشراح صدر سے عرض کیا کہ وہ تو آپ ہی کی چیز ہے۔لیکن میں صندوقوں میں بند کر کے لاہور بھجوا چکا ہوں۔فرمایا کہ ہم بھی لاہور دیکھنا چاہتے ہیں۔آج ہی چلیں۔جب قافلہ لاہور پہنچا تو دونوں نے مل کر بہت سے مقامات کی سیر کی۔باتوں باتوں میں ذکر آیا کہ صندوق ابھی اسٹیشن پر پڑے ہیں۔حضرت حکیم صاحب نے فرمایا کہ وہ صندوق ریل سے منگواؤ۔آپ جب اسٹیشن کی طرف جانے لگے تو فرمایا کہ ہم ہی منگوالیں گے۔چنانچہ آپ نے اپنی گرہ سے محصول ادا فرما کر وہ صندوق منگوا لئے اور فرمایا کہ " یہ ہم نے صرف اس لئے کیا کہ ہمارا حصہ بھی ان میں شامل ہو جائے“۔آپ فرماتے ہیں کہ " مطلب یہ کہ بمبئی سے لاہور تک کا کرایہ ان صندوقوں کا انہوں نے دے دیا۔اصل رحمت الہی کا ذکر کرنا مجھے مقصود ہے کہ اس وقت میری جیب میں اتنے روپے ہی نہ تھے کہ میں ان صندوقوں کا محصول دیتا “۔ایک ایمان افروز واقعہ چند یوم کے بعد حضرت حکیم صاحب واپس دہلی تشریف لے گئے۔آپ انہیں رخصت کر کے چند دنوں کے لئے لاہور ٹھہر گئے۔یہاں خاکسار راقم الحروف کو حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل کا بیان فرمودہ ایک ایمان افروز واقعہ یاد آ گیا جسے اس جگہ ذکر کر دینا مناسب ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ احمدیت سے کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول ایک مرتبہ لاہور میں کسی رئیس کے مکان پر بطور مہمان اُترے ہوئے تھے۔آج کل کی طرح اس زمانہ