حیاتِ نور — Page 57
۵۷ جانتے ہیں سلطان جی کی کیا پوزیشن ہے۔وہ تو عرش پر پہنچے ہوئے ہیں۔اُن کے سامنے بھلا امام ابوحنیفہ کی کیا حقیقت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ تب میں نے فیصلہ کیا کہ محبت اور تقلید بھی بڑی تکلیف میں ڈالنے والی چیز ہے رویا میں آنحضرت سید اللہ کا ارشاد کہ آپ کا کھانا ہمارے گھر میں ہے اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی اپنے پیاروں کے ساتھ کیا عجیب ہوتا ہے۔ایک مرتبہ آپ نے رویاء میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ تمہارا کھانا تو ہمارے گھر میں ہے لیکن نبی بخش کا ہم کو بہت فکر ہے۔۵۳ ان رؤیا کے بعد نبی بخش کو آپ نے بہت تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکے۔بہت دنوں کے بعد جب ملاقات ہوئی تو اُن سے پو چھا کہ آپ کو کوئی تکلیف ہو تو بتا ئیں اور ضرورت ہو تو میں آپ کو کچھ دام دیدوں۔کہا کہ مجھ کو بہت شدت کی تکلیف تھی۔مگر آج مجھ کو چھو نہ اٹھانے کی مزدوری مل گئی ہے اور پیسے مزدوری کے ہاتھ آگئے ہیں۔اس لئے ضرورت نہیں، ۵۴ مسئلہ ناسخ منسوخ کا حل مدینہ طیبہ میں ایک ترک کو آپ سے محبت تھی۔اس نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ کو کسی کتاب کی ضرورت ہو تو میں وہ کتاب اپنے کتب خانہ سے مہیا کر دوں گا۔آپ نے فرمایا مسئلہ ناسخ و منسوخ کے متعلق کوئی کتاب ہو تو وہ لا دو۔وہ ایک کتاب لایا جس میں چھ صد آیات منسوخ لکھی تھیں۔آپ کو یہ بات پسند نہ آئی اور کتاب پڑھ کر واپس کر دی۔پھر وہ "اتقان لایا۔جس میں لکھا تھا کہ انیس آیتیں منسوخ ہیں۔آپ کو گو یہ کتاب پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔مگر پسند یہ کتاب بھی نہ آئی۔اس کے بعد آپ نے فوز الکبیر پڑھی جسے آپ بمبئی سے پچاس روپے میں خرید کر لائے تھے۔اس میں لکھا تھا کہ صرف پانچ آیات منسوخ ہیں۔یہ پڑھ کر تو آپ بہت ہی خوش ہوئے مگر ان پانچ آیات پر بھی غور کرنا شروع کر دیا۔آخر اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فہم سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ ناسخ منسوخ کا سارا جھگڑا ہی عبث ہے۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناسخ و منسوخ آیات کی تعیین کی ہوتی تو وہ آیات معین تعداد میں ہوتیں۔یہ نہ ہوتا کہ فلاں بزرگ کے نزدیک چھ سو آیات منسوخ ہیں اور فلاں کے نزد یک انیس اور فلاں کے نزدیک پانچ۔معلوم ہوتا ہے جس بزرگ نے کوئی آیت حل کر لی۔اس نے