حیاتِ نور

by Other Authors

Page 719 of 831

حیاتِ نور — Page 719

۷۱۴ پڑھتے ہیں مگر اس نماز میں کوئی مغز اور حقیقت نہیں۔لوگ دیکھتے ہیں کہ زید یا بکر نماز پڑھتا ہے لیکن چونکہ اس کی غرض اس نماز میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ لوگوں کو دکھا رہا ہے اور ریا ہے۔اس لئے جب اس میں ریا شامل ہو گیا تو وہ پاک اور قرب الہی کا ذریعہ ہونے کی بجائے لعنت کا موجب ہو جاتی ہے۔مجھے یہ نقطہ قرآن مجید کی ابتدا میں خوب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں اس کے پڑھنے سے پہلے اعوذ پڑھنا چاہئے پھر ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ ہے۔بسم اللہ الرحمان الرحیم کے بعد الحمد للہ رب العالمین شروع ہوتی ہے۔پھر بسم اللہ الرحمان الرحیم کے بعد الم۔ڈلک الکتاب شروع ہوتا ہے۔اب غور کرو کہ قرآن مجید پڑھنے سے پہلے اعود کا جو حکم دیا گیا اور ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ رکھی تو کیا نعوذ باللہ قرآن مجید میں کوئی شیطانی دخل تھا جو یہ تاکید فرمائی ؟ اس میں شیطانی دخل نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک نیک کام میں نیک ارادہ شامل نہ ہو تو وہ برا اور خطرناک ہو جاتا ہے۔اس لئے ارادہ کی اصلاح اور پاکیزگی کے لئے یہ حکم دیا کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے پہلے اعـــــــود پڑھوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق اللہ تعالٰی کے فضل اور اعانت کے سوا نہیں ملتی اس لئے بسم اللہ کو رکھا جس میں استعانت ہے پس اعوذ کا حکم دیا۔اور بسم اللہ کو رکھا تا کہ مومنین نیت صاف کریں۔ایسا نہ ہو۔بدا رادہ تباہ و ہلاک کر دے۔بہت سے لوگ ہیں جن کے لئے ایک آیت رحم و برکت کا موجب ہو جاتی ہے اور بہتوں کے لئے وہی آیت ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔خدا نے فرمایا۔اعوذ پڑھو یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو اور بسم اللہ میں مد مانگنے کی تعلیم دی۔غرض کوئی کام کتنا ہی بڑا اور اعلی اور پاک کیوں نہ ہو جب تک اس میں نیک نیتی اور اخلاص نہ ہو اندیشہ ہے کہ وہ قرب الہی سے دور نہ پھینک دے۔اب جو عظیم الشان امانت کا بوجھ ہم پر پڑا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیق کے بدوں ہم اس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔اس لئے میں تمھیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جس قدر فرصت ملے۔بہتر ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں ـور