حیاتِ نور

by Other Authors

Page 715 of 831

حیاتِ نور — Page 715

میاں عبدالحی صاحب کو نصیحت وفات سے پہلے آپ نے اپنے فرزند میاں عبد الحئی کو بلایا اور فرمایا۔لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پر میرا ایمان رہا اور اسی پر مرتا ہوں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اصحاب کو میں اچھا سمجھتا ہوں۔اس کے بعد میں حضرت بخاری صاحب کی کتاب کو خدا تعالیٰ کی پسندیدہ سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور خدا کا برگزیدہ انسان سمجھتا ہوں۔مجھے ان سے اتنی محبت تھی کہ جتنی میں نے ان کی اولاد سے کی۔تم سے نہیں کی۔قوم کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں اور مجھے پورا اطمینان ہے کہ وہ ضائع نہیں کرے گا۔تم کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنا، پڑھانا اور عمل کرنا۔میں نے بہت کچھ دیکھا پر قرآن جیسی چیز نہ دیکھی۔بیشک یہ خدا تعالیٰ کی اپنی کتاب ہے۔باقی خدا کے سپرد اس کے بعد سب نماز جمعہ کے لئے ( کوٹھی ) دار السلام سے مسجد اقصیٰ میں آئے اور چند خدام حضور کے پاس رہے۔آپ نے نماز کے لئے تیمم کیا اور نماز پڑھی۔پھر حالت نزع طاری ہوئی اور نماز جمعہ کے بعد (وصال کی ) خبر پہنچنے پر لوگ با ہر کوٹھی پہنچے اور زیارت کے بعد مسجد نور میں جمع ہوگئے۔اسی وقت بیرونی جماعتوں کو بھی اطلاع کے لئے تاریں روانہ کردی گئیں۔آه ! وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سب سے زیادہ مطیع ، سب سے زیادہ پیارا اور سب سے زیادہ جاں شمار تھا۔جو آپ کے اشاروں پر چلنے والا تھا۔جس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خاطر اپنی جان اپنا مال ، اپنی عزت اور اپنے جذبات تک کو قربان کرنے میں راحت محسوس کی۔جس کی دینی اور دنیوی قابلیت کا دشمن بھی لوہا مانتے تھے۔جو طبی دنیا میں بادشاہ مانا جاتا تھا۔جس کے اپنوں اور غیروں پر بیشمار احسانات تھے۔جس نے اپنے عہد خلافت سے قبل بھی اور اس کے دوران بھی جماعت کو قرآن سنانے میں وہ عرقریزی کی کہ جس کی یاد آج بھی ہزاروں دلوں میں تازہ ہے۔جس نے دینیات کے سینکڑوں عالم پیدا کئے۔جس نے ان گنت انسانوں کے سینوں کو قرآنی علوم کے غالباً اسی نصیحت کا ذکر کرتے ہوئے محترم جناب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت خلیلہ اسی الاول نے اپنے صاحبزادہ میاں عبدائی صاحب مرحوم کو فرمایا "میاں تم سے ہمیں بہت محبت ہے۔لیکن حضرت صاحب کی اولاد ہمیں تم سے بھی زیادہ پیاری ہے۔