حیاتِ نور — Page 52
اول ۵۲ اللہ اس کی آواز پر میں نے کہا کہ میں مسنون دعا ئیں جانتا ہوں، میں خود پڑھ ئوں گا تو دوسری آواز یہ تھی یارب البیت۔اُس کی اس ذہانت پر اس قدر تعجب ہوا کہ آج تک بھی وہ تعجب دُور نہیں ہوا۔ہے۔بیت اللہ کو دیکھ کر دعا آپ نے کسی روایت کے ذریعہ یہ سُن رکھا تھا کہ جب بیت اللہ نظر آئے اُس وقت جو دعا بھی کی جائے وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے۔اس لئے آپ نے یہ دعا کی کہ الہی ! میں تو ہر وقت محتاج ہوں، اب میں کون کونسی دُعا مانگوں۔پس میں یہی دُعا مانگتا ہوں کہ جب میں ضرورت کے وقت تجھ سے دُعا مانگوں تو اس کو قبول کر لیا کر۔آپ فرماتے ہیں: " روایت کا حال تو محدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھا ہے مگر میرا تجربہ ہے کہ میری تو یہ دُعا قبول ہی ہوگئی۔بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا۔اور ہمیشہ دُعا کے ذریعہ مجھ کو کامیابی ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔ہے مکہ معظمہ میں پہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں علم حدیث کی تحصیل مکہ معظمہ میں پہنچ کر آپ علم حدیث کی تحصیل میں مشغول ہو گئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: مکہ معظمہ میں میں نے شیخ محمد خزرجی سے ابو داؤد اور سید حسین سے صحیح مسلم اور مسلم مولوی رحمت اللہ صاحب سے پڑھنا شروع کی۔ان تینوں بزرگوں کی صحبت بڑی ہی دلر ہاتھی۔سید حسین صاحب کی صحبت میں مدت دراز تک حاضری کا اتفاق رہا مگر میں نے سوائے الفاظ حدیث کے قطعاً کوئی لفظ ان کی زبان سے نہیں سُنا۔جب میں نے مولوی رحمت اللہ صاحب سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ہیں برس سے دیکھتے ہیں کہ یہ کسی سے تعلق نہیں رکھتے اور ہم کو یہ