حیاتِ نور

by Other Authors

Page 698 of 831

حیاتِ نور — Page 698

ـور ۶۹۳ زبان حرکت کر سکے۔قرآن کریم کا درس جاری رہنا چاہئے۔چنانچہ آپ کے درسوں میں شامل ہونے والے احباب بیان کرتے ہیں کہ جب آپ جنوری ۱۹۱۴ء کے شروع میں بیمار ہوئے تو باوجود بیماری اور کمزوری کے حسب معمول مسجد اقصیٰ میں تشریف لیجا کر ایک توت کے درخت کا سہارا لے کر درس دیتے رہے۔گورستہ میں چند مرتبہ نا توانی کی وجہ سے مقام بھی کر لیتے تھے۔جب کمزوری بہت بڑھ گئی اور مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھنا دشوار ہو گیا تو بعض دوستوں کے اصرار پر مدرسہ احمدیہ کے صحن میں درس دینا شروع فرما دیا۔ان ایام میں آپ نقاہت کی وجہ سے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لاتے تھے اور اسی طریق پر واپس تشریف لے جاتے تھے۔مگر جب ضعف اور بھی بڑھ گیا اور دوسروں کے سہارے بھی چلنا مشکل ہو گیا تو اپنے صاحبزادہ میاں عبدالحی صاحب کے مکان میں درس دیتے رہے اور آپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ اپنے آقا و مطاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کھڑے ہو کر درس دیا جائے مگر آخری دو تین ہفتے جب اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہ رہی اور ڈاکٹروں نے درس بند کر دینے کا مشورہ دیا تو فرمایا کہ قرآن کریم میری روح کی غذا ہے۔اس کے بغیر میرا زندہ رہنا محال ہے لہذا درس میں کسی حالت میں بھی بند نہیں کر سکتا۔غالبا انہی ایام کا ذکر کرتے ہوئے الفضل“ لکھتا ہے: ضعف کا یہ حال ہے کہ بغیر سہارے کے بیٹھنا تو درکنار سرکو بھی خود نہیں تھام سکتے۔اسی حالت میں ایک دن فرمایا کہ بول تو میں سکتا ہوں خدا کے سامنے کیا جواب دوں گا۔درس کا انتظام کرو کہ میں قرآن مجید سنادوں۔۲۸ لاہور سے انگریز ڈاکٹر کا بلوایا جانا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: ابتداء میں ( آپ کو ) صرف پسلی کے درد کی تکلیف اور گاہے گاہے ہلکی حرارت اور قے وغیرہ کی شکایت تھی جو آہستہ آہستہ سہل کی صورت اختیار کر گئی اور اس بیماری نے اس قدر زور پکڑ لیا کہ پھر اس کے بعد آپ بستر سے نہ اٹھ سکے۔۲۹ جب ضعف بہت ترقی کر گیا، آواز بھی نحیف ہو گئی اور غذا بھی برائے نام رہ گئی تو ۱۴ فروری ۱۹۱۴ء کو حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی " لاہور بھجوائے گئے تا احباب لاہور کے مشورہ سے کسی ماہر انگریز ڈاکٹر کو بلا لائیں۔چنانچہ ڈاکٹر ملول صاحب لے جائے گئے۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب بھی ساتھ تھے۔انگریز ڈاکٹر نے کافی دیر تک معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ پھیپھڑا ٹھیک ہے۔نبض اچھی