حیاتِ نور — Page 671
ـور ایسی بات منسوب کرنی سراسر ظلم ہے۔ވކހނއ جواب اہلبیت اور ان کے تعلق دار لکھے بیٹھے انجمن اور اس کے اراکین پر ذاتی حملوں کے سوا اور کچھ نہیں کرتے۔یہ بھی محض جھوٹ ہے۔اہل بیت میں سے سب سے پہلے نمبر پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تھے۔آپ اس زمانہ میں مہمان خانہ اور مدرسہ احمدیہ کے افسر، صدر انجمن کے پریزیڈنٹ اور الفضل اور تشحمید الاذہان کے ایڈیٹر تھے۔علاوہ ازیں بعد نماز فجر روزانہ قرآن کریم کا درس دیتے تھے۔مرکز میں اور مرکز سے باہر آپ کو جماعت کے احباب تقریروں کے لئے بھی بلاتے تھے۔دوسرا نمبر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا تھا۔آپ اس زمانہ میں تحصیل علم میں مشغول تھے اور بی۔اے کے امتحان کی تیاری فرمارہے تھے۔تیسرانمبر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کا تھا۔آپ پنجم ہائی میں پڑھتے تھے۔باقی رہ گئے اہل بیت کے متعلقین ! ان کی مصروفیات بھی سن لیجئے۔(1) حضرت میر ناصر نواب صاحب جو حضرت ام المومنین کے والد ماجد اور سید نا حضرت محمود ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نانا تھے۔باوجود بڑھاپے کے آپ نے لمبے لمبے اور تکلیف دہ سفر کر کے غرباء، مساکین، بیوگان اور تمامی کے لئے چندہ جمع کیا اور پھر اپنی نگرانی میں ان کے لئے مکانات تعمیر کروائے۔مسجد نور بھی آپ ہی کے جمع کردہ چندہ سے تیار ہوئی۔علاوہ ازیں آپ انجمن کے صیغہ تعمیر کے افسر بھی تھے۔بے موقعہ نہ ہوگا۔اگر اس جگہ آپ کی اس لگن اور توغل کا ذکر کر دیا جائے۔جو آپ کو غربا کے لئے مکانات تیار کرنے میں تھا۔محترم شیخ عبداللطیف صاحب بٹالوی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علامہ میر محمد اسحاق صاحب جو آپ کے فرزند تھے۔شدید بیمار ہو گئے۔آپ کی زوجہ محترمہ یعنی والدہ محترمہ حضرت ام المومنین نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میاں اسحاق بیمار ہے۔اس کے لئے دعا فرماویں۔جس وقت آپ کی خدمت میں یہ پیغام پہنچا۔اس وقت محلہ دار الضعفاء میں غرباء کے لئے مکانات تیار ہو رہے تھے اور آپ ان کی نگرانی فرمارہے تھے۔میں بھی پاس ہی تھا۔مجھے فرمایا۔میاں عبد اللطیف ! اس بڑھیا کو جا کر کہو کہ اگر تم نے مجھ سے اپنے بچے کی صحت کے لئے دعا کروانی ہے۔تو غرباء کے مکانات کی تعمیر