حیاتِ نور

by Other Authors

Page 669 of 831

حیاتِ نور — Page 669

جوا ۶۶۴ مولوی محمد علی صاحب کو تنگ کرنے کے لئے کی جاتی رہی۔یہاں تک کہ میر ناصر نواب کے لڑکے میر اسحاق نے ایک شوشہ کھڑا کر دیا کہ انجمن خلیفہ کے ماتحت ہے یا خلیفہ انجمن کے ماتحت اور پھر اس پر وہ طوفان بے تمیزی مچایا گیا اور ساری جماعت کو انجمن کے کارکنان کے خلاف اس قدر بھڑ کا یا گیا کہ وہ بیچارے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو گئے۔اور اس طرح الوصیت“ کی خلاف ورزی کی سزا میں ذلیل کئے گئے۔اب جماعت میں با قاعدہ طور پر زبانی اور بذریعہ اخبار الحکم تمام ان لوگوں کے خلاف جو انجمن کے سرکردہ تھے۔غلط فہمی پھیلانی شروع کی گئی۔اور ساتھ ہی پیش بندی کے لئے مرزا محمود صاحب کو بطور مدعی خلافت مامور مصلح موعود" پیش کیا جانے لگا۔اور اصل بات سے جماعت کو اندھیرے میں رکھ کر یہ مشہور کیا جاتا رہا کہ انجمن کے سرکردہ لوگ اہل بیت مسیح موعود کے دشمن اور بدخواہ ہیں۔افسوس کہ حضرت ام المومنین کے خلاف بغیر ثبوت کے ایک بات منسوب کر دی گئی کہ آپ نے ارائیں قوم کو ذلیل قرار دیا۔سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے لڑکے استاذی المکرم حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے اس سوال کے اٹھانے میں ابتداء نہیں کی۔بلکہ صدر انجمن کے معزز اراکین جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء کی تقریروں کے دوران اس سوال کو بار بار اٹھایا۔اور حاضرین کو تلقین کی کہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے۔لہذا تمام کاروبار انجمن کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔اگر یقین نہ ہو تو صدر انجمن کی سالانہ رپورٹ صفحہ ۲۰ ملاحظہ فرمالیں۔اور بدر میں جو تقریروں کا خلاصہ شائع ہو چکا ہے اور جس پر اس کتاب کے گزشتہ صفحات میں تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔اسے دیکھ لیں۔حضرت میر صاحب نے تو یہ معاملہ وضاحت کے لئے حضرت خلیفہ اسی اول کی خدمت میں پیش کر دیا۔اور حضور نے ساری جماعت کے نمائندوں کے سامنے اس مسئلہ کی حقیقت بیان فرما دی۔جس کے نتیجہ میں منافقوں کے نفاق کا بھانڈا چورا ہے میں پھوٹ گیا۔اور مومنوں کے لئے حضور کی تصریحات ملج قلب کا موجب ہوئیں۔انجمن کے اراکین کی جس ذلت کا ٹریکٹ لکھنے والے نے ذکر کیا ہے۔اس سے اس کی مراد یہ تھی رو