حیاتِ نور — Page 660
" ــــــور ۶۵۵ جائیں اور وہ بھی ذاتی امور میں۔اس سے جماعتی استحکام کو کچھ نسبت نہیں۔اگر چه انفرادی ترقی کچھ حد تک جماعتی عروج میں مؤید و مفید ہوتی ہے۔لیکن صحیح جماعتی زندگی اور عروج تا وقتیکہ تمام افراد ایک جذ بہ نظام اور لیڈر کے ماتحت سرگرم نہ ہوں۔خیال باطل ہے۔کیونکہ ایک کا نمونہ دوسروں کی کوتاہیوں، خامیوں اور کمزوریوں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ دور کرتا رہتا ہے۔اور اس کی بدولت کمزور عنصر بھی غیر معمولی قوت ارادی کے ساتھ طاقتوروں کے دوش بدوش گامزن رہتا ہے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے جب کہ ایک واجب الاطاعت امیر کے ہاتھ جماعت کی باگ ڈور ہو۔تمام افراد اس کے اشارے پر حرکت کریں۔سب نگاہیں اس کے ہونٹوں کی جنبش پر ہوں اور جونہی اس کی زبان فیض ترجمان سے کوئی حکم مترشح ہو۔سب بلا حیل و حجت اس پر عمل پیرا ہوں۔کیونکہ عمل میں جت و تکرارسم قاتل ہے۔بظاہر ایسے امیر کا تسلیم کرنا طبع کو ناگوار گزرتا ہے۔خودسر انسان ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ اس میں پیر پرستی اور شخصی غلامی کا رنگ جھلکتا ہے۔مگر یہ قلت تدبر اور کوتاہ بینی کا نتیجہ ہے۔تاریخ عالم اور اقوام دنیا کی ترقی کے اسرار سے ناواقفیت ہے۔تاریخ کے اوراق ہر دور میں اس کی شہادت دیتے ہیں کہ بہت سے گروہ باوجود اپنے نقائص کے صرف ایک امیر کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔جب تک عنان ایسے امیر کے ہاتھ میں نہ ہو۔جس کے ہاتھ پر عملی طور پر تن من دھن کی قربانی کی بیعت نہ کی ہو۔مستقل اور پائندہ ترقی محال ہے۔" قرآن حکیم کی تعلیم اس کی زبر دست مؤید ہے اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے حضور صلعم کے ہر اشارے پر جان و مال لٹا کر مہر تصدیق ثبت کر دی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَا وَرَتِكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيْمَا شَجَرَ بينهم اے پیغمبر میں اپنی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہو سکتے۔تا وقتیکہ اپنی تمام اختلافی باتوں میں تجھے حکم نہ مان لیں۔اطاعت کا حکم آپ تک ہی محدود نہیں کر دیا۔بلکہ ہمیشہ کے لئے عام کر دیا۔چنانچہ فرمایا۔ايُّهَا الَّذِيْنَ امَنوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ۔اے مسلمانو!