حیاتِ نور

by Other Authors

Page 652 of 831

حیاتِ نور — Page 652

حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی خدمت میں جناب چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا ایک اور خط لندن سے اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ موسمی تعطیلات میں جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے سویڈن ، فن لینڈ اور روس کا دورہ کیا۔اور اس دورہ سے متعلق کچھ باتیں آپ نے پہلے خط میں بیان کی تھیں۔کچھ باتوں کا ذکر اس دوسرے خط میں ہے۔ایک ضروری بات آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمت میں یہ کبھی کہ یہاں کچھ لوگ جوز مر تبلیغ ہیں۔وہ اسلامی عمل کو سمجھنے کے خواہشمند ہیں اور ارکان اسلام معلوم کرنا اور سیکھنا چاہتے ہیں۔اگر ایک چھوٹے سے انگریزی رسالے میں نماز کی دعائیں، ان کا ترجمہ اور نماز کے اصول وضوابط تحریر کر دیئے جائیں تو بہت مفید رہے گا۔ساتھ ہی آپ نے لکھا کہ اگر غلام کی تجویز حضور پسند فرما دیں اور اس کے متعلق حکم صادر فرما دیں تو رسالہ کے اخراجات کے لئے ۳۰ روپے اپنے ماہانہ خرچ سے عاجز ارسال کر دے گا۔میرے خیال میں ایسے رسالہ کی اس وقت انگلینڈ میں بہت سخت ضرورت ہے۔دوسری بات جس کا آپ نے خاص طور پر ذکر کیا۔وہ فن لینڈ کی ایک عورت کی اسلام سے دلچسپی ہے۔اسے جب آپ نے اسلام کے سادہ اصول بتائے تو اس نے بے ساختہ کہا کہ اگر یہی اسلام ہے تو میں شاید مسلمان ہو جاؤں گی۔آپ لکھتے ہیں کہ جب اس عورت سے آپ کی پہلی ملاقات ہوئی تو اس نے اول اول تو سمجھا کہ یہ کوئی جاہل گنوار ہے۔لیکن جب اس نے آپ سے گفتگو شروع کی۔تو وہ آپ کی معلومات کو سن کر حیران اور ششدر رہ گئی۔کیونکہ جو بات وہ کہنا چاہتی تھی۔آپ اسے پہلے ہی بتا دیتے تھے۔پھر جب اس نے آپ کے چال چلن پر غور کیا۔تو اسے اور بھی تعجب ہوا کہ آپ کے اخلاق اور یورپی اخلاق میں کس قدر فرق ہے؟ خصوصاً سفر میں جہازوں پر جب لڑکے اور لڑکیاں ملتے ہیں تو حیا سوز حرکات کرتے ہیں۔لیکن جب اس خاتون نے آپ کو دیکھا کہ یہ اس معاملہ میں بھی اوروں سے مختلف ہے۔تو اس پر بہت گہرا اثر پڑا۔اور اس نے آپ کی بہت عزت کرنا شروع کر دی اور سے پر اثر اور بر ملا کہا کہ اول اول تو میں نے آپ کی شخصیت کو نہیں پہچانا تھا۔لیکن اب میں ہر وقت آپ سے ڈرتی ہوں کہ مبادا مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے۔جو آپ