حیاتِ نور — Page 653
ـــور ۶۴۸ کے اعلیٰ اخلاق کے درجے تک نہ پہنچے۔پھر بعد میں ایک دفعہ آپ سے کہا کہ اگر کسی بچے کی تربیت میرے ہاتھ میں ہو تو میں تمہیں نمونہ بنا کر اس کی تربیت کروں۔اور جو عزت اور ادب تمہارا میری نگاہ میں ہے۔تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔آپ فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا کہ اگر آپ کوئی خوبی مجھ میں دیکھتی ہیں تو وہ اس وجہ سے ہے کہ اسلام میرا دین ہے اور جو برائی مجھ میں ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ میں ابھی پورے طور پر اسلام پر عمل کرنے کے قابل نہیں ہوا۔اس کے بعد آپ لکھتے ہیں کہ " اثنائے گفتگو میں میں نے حضرت صاحب اور حضور کا ذکر کیا اور حضرت صاحب کے دعاوی مختصر بیان کئے۔اب اسے مجھ پر یہاں تک اعتماد ہو گیا تھا کہ میں جو کچھ کہتا تھا۔اسے صحیح تسلیم کر لیتی تھی۔اور اس پر غور کرتی تھی۔لندن واپس پہنچ کر آپ نے اسے "Teachings of Islam اور خواجہ صاحب کا ایک رسالہ بھیجا۔جس کے جواب میں اس نے لکھا کہ " کتابوں کی بابت ہزار ہزار شکریہ میرا قبول کریں۔ابھی ابھی مجھے ملی ہیں۔''Teachings of Islam نہایت پر ذوق معلوم ہوتی ہے۔میں نے چند اقتباسات پڑھے ہیں۔مجھے نہایت خوشی ہے کہ میں اسلام کے اصول اب سیکھ سکتی ہوں“۔آخر میں آپ لکھتے ہیں : میں نے یورپ میں صرف یہ ایک عورت دیکھی ہے۔جو نہ صرف اسلام کے متعلق شوق رکھتی ہے بلکہ بغیر پیشتر معلوم ہونے کے اسلامی اصولوں اور رواجوں مثلاً پردہ کو پسند کرتی ہے۔حالانکہ عام یور چین عورتیں اس کے بہت خلاف ہوتی ہیں۔یورپین تہذیب کو بالکل پسند نہیں کرتی۔سوال کرنے پر صاف اور سچا جواب دیتی ہے۔کوئی ادھر ادھر کی بات کہہ کر ٹال نہیں دیتی اور عام طور پر یہ