حیاتِ نور — Page 639
۶۳۴ །། تمہید پر ضرور توجہ رکھیں۔بخاری کے چند مقامات مشکلہ کو الگ نوٹ کر لینا۔اوہام ، روات، اضطراب، مشکلات اور زمانہ حال کے اعتراضات پھر ان مقامات کی شروح اور ان کے سوالات علماء سے دریافت کرتے رہنا۔مخالفت کے لئے نہیں ( بلکہ ) ظہور حق کے لئے اس پر عمدہ شرح حنابلہ و مالکیہ کی دیکھ لینا اور دریافت کرنا۔گو فتح الباری مفید اور عینی نافع ہے۔قرآن کریم کی تفاسیر میں صرف متشابہات کو محکمات کے مطابق کرنے کی سعی کرنا۔أَلَا لَا لِلْفِتْنَةِ وَلَا لِشُغُل - فتَ مُحلَّى ابن حزم۔۔۔۔۔نيل الأوطار - کتاب الأم - امام المام - عمدہ کتب فقہ ہیں۔مجمع الزواید، ابن حبان و ابن خزیمہ، اصلاح المستدرک، مسند عبد الرزاق ، مسند سعید بن منصور، مصنف ابن الجاشہ گومو کی علیہا کتا بیں ہیں۔مگر گو نہ مفید ہیں۔ادب میں کامل مبر د ادب الکاتب ابن قتیبہ ، صناعتین۔کتب و رسائل حافظ معتزلی، اسرار البلاغہ اور دلائل الاعجاز لعبد القاہر، مفتاح العلوم للسکا کی میرے خیال میں عمدہ ہیں۔الکتاب لسیو یہ بابرکت ہے۔صحاح جوہری نظر رہے اور اس کے اشعار حل کرتے رہو۔( گو آہستہ آہستہ اور بہت تدریج سے ہوں)۔صرف ونحو میں بہت تدقیق مناسب نہیں۔نہ لبی تحقیق نہ ان کے قواعد یاد کرنا ضروری ہیں۔مختصر ااس پر نظر ہو۔فصیح بولنا، فصاحت سے لکھنا۔فصحاء کی مجالس فصیح فقرات لکھ لینا، عمدہ اخباروں کے عمدہ آرٹیکل پڑھنا، اگر ممکن ہو تو عمدہ عمدہ جدید طب کی ہر شعبہ کی کتابیں ضرور نظر سے گزار لو۔اور کچھ طریق طب جدیدہ وہاں سیکھ لو، جلساء صالحون کے لئے دعا، دعا، دعا، رویت شہر و قری۔کبھی موقع ملے تو مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ ضرور جائیں۔دعا ئیں ، دعائیں، دعا ئیں، صحبت صلحاء، مجالس اتقیاء قرب ابرار و اخیار ضروری اور لا بد ہے۔ہاں سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو۔۶۳ والسلام نورالدین ۱۸ جولائی ۱۹۱۳ ء "