حیاتِ نور

by Other Authors

Page 590 of 831

حیاتِ نور — Page 590

۵۸۵ میرے دل میں ایک گناہ کا ارادہ ہوا۔یہاں تک کہ میرا نفس شریعت میں اس کے جواب کے لئے حیلے بہانے تلاش کرنے لگا۔تب میں نے یہ علاج کیا کہ چھوٹی چھوٹی حمائلیں قرآن شریف کی لے کر اپنے سامنے اور اردگرد ایسے مقاموں پر لٹکا دیں۔جہاں کہ جلد جلد میری نظر پڑتی رہے۔اور اپنی جیبوں میں بھی میں نے رکھ لیں۔جب اس گناہ کا میرے دل میں خیال پیدا ہوتا۔تو ان حمائلوں میں سے کسی ایک کو دیکھتا اور کہتا کہ دیکھ تو اس کتاب پر ایمان لایا ہے۔اور پھر اس قسم کا خیال تیرے دل میں آتا ہے۔پھر فرمایا کہ ایسا کرنے سے مجھے شرم آ جاتی تھی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وہ خیال میرے دل سے دور کر دیا۔حضرت خلیفتہ اسیع الاول کے ان ارشادات سے پتہ چلتا ہے کہ گناہ سے بچنے کے کئی علاج ہیں۔موت کو یا درکھنا، قرآن کریم کو پاس رکھنا، کثرت استغفار کا تو آپ نے یہاں ذکر کیا ہے۔پھر اسی صفحہ پر آگے چل کر فرماتے ہیں کہ کونوا مع الصادقین پرعمل اور اللہ تعالی سے دعا ئیں کرنا بھی گناہ سے بچنے کے ذرائع میں سے ہے۔غرض کسی شخص پر ایک بات زیادہ اثر کرتی ہے اور کسی پر دوسری۔انسان اگر کوشش میں لگا ر ہے تو آخر کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔" حضرت مولانا عبدالواحد صاحب " آف برہمن بڑیہ بنگال کی بیعت کیم نومبر ۱۹۱۲ء حضرت مولانا سید عبد الواحد صاحب برہمن بڑ یہ بنگال کے مشہور و معروف عالم تھے۔ان کی بیعت کا واقعہ یوں ہے کہ ۱۹۰۳ء میں وہاں کے ایک وکیل منشی محمد دولت خاں نے حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی سکنہ لاہور کی ایجاد کردہ ایک تا یک دو مفرح عنبری بذریعہ پارسل منگوائی۔حضرت حکیم صاحب نے حسب معمول اس پارسل میں ظہور مسیح و مہدی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی سے متعلق بعض اشتہارات رکھ دیئے۔وکیل صاحب موصوف نے وہ اشتہارات بغرض تحقیق برہمن بریہ کے قاضی و مقامی ہائی سکول کے ہیڈ مدرس حضرت مولانا سید عبدالواحد صاحب کو دے دیئے۔حضرت مولانا موصوف نے بڑے اشتیاق اور سنجیدگی کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة