حیاتِ نور — Page 585
ـور ۵۸۰ شوق کتب بینی نہیں دوں گا۔مجھے جو کچھ آتا ہے تمہیں بتادیتا ہوں اور جو نہیں آتا وہ جا نہیں سکتا۔تم بھی خدا کے بندے ہو۔اور میں بھی خدا کا بندہ ہوں تم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہو۔اور میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہوں۔اسلام پر اعتراضات کا جواب دینا صرف میرا ہی کام نہیں تمہارا بھی فرض ہے کہ تم بھی سوچو اور اعتراضات کے جوابات دو۔مجھ سے مت پوچھا کرو۔چنانچہ اس کے بعد میں نے آپ سے کوئی سوال نہیں کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ قیمتی سبق یہی تھا، جو آپ نے مجھے دیا ہے حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " مجھے کتابوں کا اس قدر شوق ہے کہ بعض کتابوں کے کئی نسخے میرے پاس جمع ہو جاتے ہیں۔ایک دفعہ اس قسم کی فکر تفسیر میں انجمن حمایت اسلام کو دی تھیں۔پھر بہت ہو گئیں۔وہ انجمن نعمانیہ کو دیدی تھیں۔ارادہ ہے کہ اس سال پھر صفائی کر دیں گے اور نکال دیں گئے۔یہ امر اہل علم سے مخفی نہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی لائبریری میں تفسیر، حدیث، اسماء الرجال، فقہ، اصول فقه، کلام، تاریخ، تصوف، سیاست، منطق، فلسفه، صرف و نحو، ادب، کیمیا، طب علم جراحی علم ہیئت اور غیر مذاہب کی نادر کتا بیں موجود تھیں۔اور جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے آپ نے متعدد تا در قلمی نسخے نقل کرنے کے لئے اپنے ایک قابل شاگرد حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری کو بھوپال اور مصر میں بھی بھیجا تھا۔پنجاب اور ہندوستان کے اہل علم کو چونکہ آپ کی اس لائبریری کا خوب علم تھا۔اس لئے سرسید اور علامہ شبلی نعمانی جیسے علماء بھی اس سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔بلکہ ایک مرتبہ جب سر شاہ محمد سلیمان جج فیڈرل کورٹ آف انڈیا کو جو ایک علم دوست آدمی تھے سپین کی ایک نادر کتاب کی ضرورت پیش آئی اور ہندوستان بھر کی کسی مشہور لائبریری میں انہیں یہ کتاب میسر نہ آسکی تو آخر انہیں پتہ لگا کہ اس کا ایک قلمی نسخہ قادیان میں موجود ہے۔جس پر انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ