حیاتِ نور — Page 584
۵۷۹ ان کے پاس بٹھایا تھا۔ہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا علم بخشا تھا کہ آپ کی عربی کتابوں کے مقابلے میں ہند و عرب کے علماء عاجز آ گئے تھے۔آپ کو دعا پر بہت بھروسہ تھا۔اور دعا سے خدا نے تمام علوم آپ کو سکھا دیئے تھے۔ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خود علوم سکھاتا ہے حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی حضرت خلیفہ المسح اول کے شاگرد تھے۔حضرت خلیفہ اول چونکہ جانتے تھے کہ آپ سے اللہ تعالیٰ نے اکناف عالم میں اسلام کی اشاعت کروانی ہے اور ظاہری اور باطنی علوم سے آپ کو نوازتا ہے۔اس لئے آپ نے ظاہری اسباب سے کام لینے کی رعایت کی وجہ سے آپ کو سرسری طور پر قرآن کریم اور بخاری شریف کا ایک دور کروا دیا تھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: میں نے ) قرآن کریم کا ترجمہ آپ (حضرت خلیفہ امسیح اول) سے چھ ماہ میں پڑھا۔میرا گلا چونکہ خراب رہتا تھا۔اس لئے حضرت خلیفہ المسیح اول مجھے پڑھنے نہیں دیتے تھے۔آپ خود ہی پڑھتے جاتے تھے۔اور میں سنتا جاتا تھا۔اور چھ ماہ یا اس سے کم عرصہ میں سارے قرآن کریم کا ترجمہ آپ نے پڑھا دیا۔پھر تفسیر کی باری آئی تو سارے قرآن کریم کا آپ نے ایک مہینہ میں دور ختم کر دیا۔اس کے بعد بھی میں آپ کے درسوں میں شامل ہوتا رہا ہوں لیکن پڑھائی کے طور پر صرف ایک مہینہ ہی پڑھا ہوں۔پھر آپ نے مجھے بخاری پڑھائی۔اور تین مہینہ میں ساری بخاری ختم کرادی۔حافظ روشن علی صاحب بھی میرے ساتھ درس میں شامل ہو گئے تھے۔وہ بعض دفعہ سوالات بھی کرتے تھے۔اور حضرت خلیفہ المسیح اول ان کے جوابات دیتے تھے۔حافظ صاحب ذہین تھے اور بات کو پھیلا پھیلا کر لمبا کر دیتے تھے۔انہیں دیکھ کر مجھے بھی شوق آتا کہ میں بھی اعتراض کروں۔چنانچہ ایک دو دن میں نے بھی بعض اعتراضات کئے۔اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ان کے جوابات دیئے۔لیکن تیسرے دن جب میں نے کوئی اعتراض کیا۔تو آپ نے فرمایا: میاں! حافظ صاحب تو مولوی آدمی ہیں۔وہ سوال کرتے ہیں تو میں جواب بھی دے دیتا ہوں۔لیکن تمہارے سوالات کا میں جواب