حیاتِ نور — Page 40
اب اول ۴۰ منشی جمال الدین صاحب مدارالمہام سے ملاقات اسی وقت منشی جمال الدین صاحب مدارالمہام نماز کے لئے تشریف لائے۔بعد نماز آپ نے امام صاحب کو آپ کے پاس بھیجا۔آپ تو جان سے بھی بیزار تھے۔امام صاحب کے سوالات کا روکھے پن سے جواب دیا۔معلوم نہیں امام صاحب نے کیا جا کر کہا ہو گا مگر اُن کے پہنچتے ہی منشی صاحب معہ اپنے ہمراہیوں کے خود تشریف لائے اور فرمایا کیا آپ پڑھے ہوئے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ہاں! دوسرا سوال ان کا یہ تھا کہ آپ کیا کیا علوم جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔سبھی کچھ جانتا ہوں۔تب انہوں نے اپنی نبض آپ کو دکھائی۔آپ نے فرمایا۔بد ہضمی ہے۔انہوں نے نسخہ طلب کیا۔آپ نے ایک نهایت قیمتی نسہ لکھوا دیا۔انہوں نے کہا اگر فائدہ نہ کرے۔آپ نے اس کا نہایت سختی سے جواب دیا۔تیسرا سوال انہوں نے یہ کیا کہ کیا آپ علم مساحت جانتے ہیں؟ فرمایا ہاں جانتا ہوں۔سامنے ایک بڑا تالاب تھا۔کہا ، کیا آپ یہاں بیٹھ کر اس کی مساحت کر سکتے ہیں؟ فرمایا ہاں۔آپ نے ایک قاعدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایک قلم کے ذریعہ سے کر سکتے ہیں۔منشی صاحب موصوف کی طرف سے آپ کی ضیافت کا اہتمام اس کے بعد سب لوگ چلے گئے۔راستہ سے منشی صاحب موصوف نے کہلا بھیجا کہ ہم آپ کی ضیافت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا مجھ کو ضیافت کی ضرورت نہیں۔کہا۔مسنون دعوت ہے۔آپ نے یہ سوچکر کہ مرتے تو ہیں ہی آخر وقت سنت پر عمل تو ہو۔فرمایا کہ بہت اچھا دعوت منظور ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک سپاہی آیا اور کہا کہ کھانا تیار ہے چلو۔آپ نے فرمایا۔میں چل نہیں سکتا۔اس نیک انسان نے کہا آپ میری پیٹھ پر سوار ہو جائیں۔آپ سوار ہو گئے۔اس نے نہایت ہی احتیاط سے آپ کو دستر خوان پر لیجا کر منشی صاحب کے پاس ہی بٹھا دیا۔آپ فرماتے ہیں کھ میں نے اس وقت بہت غور کیا کہ کیا چیز ہے جو کھاؤں۔پلاؤ کے ساتھ مجھ کو رغبت تھی۔میں نے پلاؤ کی رکابی میں سے لقمہ اُٹھایا۔جب مونہہ کے قریب لے گیا تو ڈرا کہ ایسا نہ ہو گلے میں پھنس جائے اور جان نکل جائے۔اس واسطے پلاؤ کے لقمہ کو پھینک دیا۔پھر جو غور کیا تو ایک برتن میں مُرغ کا شور ہا تھا۔میں نے اس کو اُٹھالیا اور ایک بہت چھوٹا سا گھونٹ بھرا۔تو میری آنکھوں میں روشنی آ گئی۔پھر ایک اور گھونٹ بھرا اسی طرح آہستہ آہستہ میں نے پینا شروع کیا۔منشی