حیاتِ نور — Page 546
۵۴۱ ضرورت تھی کہ اگر یہ ان خیالات سے توبہ کر لیں۔تو ان کی نئے سرے سے بیعت لی جائے۔حضرت خلیفہ امسح الاول نے جو زبردست تقریریں ان خیالات فاسد کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دینے کے لئے کیں۔وہ قارئین سے مخفی نہیں۔خلافت کو مٹانے کے لئے تمام دلائل جو یہ لوگ دیا کرتے تھے۔ان کا ایک ایک کر کے آپ نے نہایت ہی تسلی بخش جواب دیا اور بتایا کہ خلیفے خود خدا بنایا کرتا ہے۔انجمن اور افراد خلیفے نہیں بنایا کرتے۔نیز خلافت کو مٹانا کسی انجمن کے اختیار میں نہیں وغیرہ وغیرہ۔۔سوال: میاں محمود احمد صاحب اور آپ کے ہم خیال لوگوں نے حضرت مولانا نورالدین صاحب کے زمانہ میں یہ کوششیں کیں کہ مولا نا محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو جماعت سے خارج کروا دیا جائے۔اور ان پر الزام یہ لگایا گیا کہ یہ لوگ حضرت صاحب پر بھی روپیہ کھا جانے کا الزام لگاتے تھے۔اور آپ پر بھی لگاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایک واقعہ پیش آگیا یعنی حکیم فضل دین کی حویلی کی فروخت کا۔اسپر بھی بڑھا چڑھا کر پراپیگنڈہ کا ایک طوفان کھڑا کیا گیا۔جس میں علاوہ اور باتوں کے لاہور سے بھی مولانا نورالدین صاحب کو خطوط لکھے گئے۔کہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب یوں کہتے ہیں۔ڈاکٹر مرزا صاحب یوں کہتے ہیں۔مولانا نورالدین صاحب آخر خدا تعالیٰ کے مامور نہ تھے۔بتقاضائے بشریت ان کے دل پر غبار آ گیا اور انہوں نے فرمایا کہ میں عید کے دن ایک اعلان کرونگا۔۹۴ جواب: حضرت اقدس اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول پر مالی معاملات سے متعلق بدظنی کا خیال کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔سلسلہ کے ریکارڈ پر یہ بات آ چکی ہے۔اور ابھی جو تقریر پیچھے درج ہو چکی ہے۔اس کا تو مضمون ہی یہی تھا۔اور حضرت مولوی فضل الدین صاحب بھیروی کی حویلی کی فروختگی کا واقعہ بھی پیچھے گزر چکا ہے۔اس پر جو طوفان بے تمیزی ان لوگوں نے برپا کیا تھا۔وہ بھی احباب سے مخفی نہیں۔اس سلسلہ میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کو جو خطوط لکھے ـور