حیاتِ نور — Page 521
ـور ۵۱۶ نہیں۔ہم ایک آدمی کو مسجد بھیجدیں گے کہ تکبیر ہوتے ہی آکر کہہ دے۔خیر میں کھا کر جب شکم سیر ہو گیا۔تو ملازم نے اطلاع دی کہ نماز تیار ہے۔تکبیر ہو چکی ہے۔پھر دوسری صبح ہی جبکہ اپنا بستہ صاف کر رہا تھا۔اور اپنی کتابیں الٹ پلٹ کر رہا تھا۔تو نا گہاں ایک پونڈ مل گیا۔چونکہ میں نے کبھی کسی کا مال نہیں اٹھایا۔اور نہ کبھی مجھے کسی کا روپیہ دکھلائی دیا۔اور میں یہ خوب جانتا تھا کہ اس مقام پر مدت سے میرے سوائے کوئی آدمی نہیں رہا اور نہ کوئی آیا۔لہذا میں نے اسے خدائی عطیہ سمجھ کر لے لیا اور شکر کیا کہ بہت دنوں کے لئے یہ کام دیگا۔ھے اس قسم کا ایک واقعہ محترم مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب نے بروایت محترم مولوی محمد جی صاحب بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ امسیح اول دیر تک اپنے کام میں مصروف رہے۔یہاں تک کہ کافی رات گزر گئی۔جب گھر تشریف لے گئے۔تو کھانا موجود نہیں تھا۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ باہر سے کسی نے دستک دی۔فرمایا کون ہیں؟ جواب ملا۔مرز امحمد اسمعیل ! فرمایا۔کیا کام ہے؟ عرض کیا۔حضور! آج میں نے کھویا تیار کیا تھا۔تو چونکہ وہ بہت عمدہ بن گیا تھا۔اس لئے میں نے یہ نیت کی تھی کہ حضور کی خدمت میں بھی پیش کرونگا مگر حضور کی مصروفیات کی وجہ سے پیش نہ کر سکا۔عشاء کی نماز کے بعد میری آنکھ لگ گئی۔اب جو آنکھ کھلی تو خیال آیا کہ ابھی دے آؤں۔چنانچہ اب حاضر خدمت ہو کر پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔آپ نے وہ کھو یا قبول فرمالیا۔اور گھر والوں کو کہا کہ آپ بھی کھائیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے بھیجوایا ہے“۔محبت قرآن فرمایا۔قرآن شریف کے ساتھ مجھ کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دوائر مجھے زلف محبوب نظر آتے ہیں۔اور میرے مونہہ سے قرآن کا ایک دریا رواں ہوتا ہے۔اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔بعض وقت تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان کروں۔