حیاتِ نور

by Other Authors

Page 518 of 831

حیاتِ نور — Page 518

۵۱۳ اتِ نُ که ضرورت متفقہ ہے۔یہ درخواست حضور وائسرائے ہند کی خدمت میں پیش ہو۔اور یہ غرض نہیں کہ ہم ہی اس کو پیش کرنے والے ہوں۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں یہ تحریک ڈالی ہے۔اس لئے ہم نے اسے پیش کر دیا ہے۔اگر کوئی انجمن یا جماعت ایسی ہو۔جو صرف اس وجہ سے اس کے ساتھ اتفاق نہ کرے۔کہ یہ میموریل ہماری طرف سے کیوں پیش ہوتا ہے۔تو ہم بڑی خوشی سے اپنے میموریل کو گورنمنٹ کی خدمت میں نہیں بھیجیں گے۔بشرطیکہ اس کے بھیجنے کا اور کوئی مناسب انتظام کر لیا جاوے“۔لمعلن نورالدین (خلیلة امسیح الموعود) قادیان ضلع گورداسپور یکم جولائی ۱۹۱۱ء اس جگہ اس امر کا ذکر کرنا بھی خالی از فائدہ نہیں ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کیم جنوری ۱۸۹۶ء کو ایک میموریل اس غرض کے لئے وائسرائے ہند کی خدمت میں بھیجا تھا اے میمر اس زمانہ کے علماء اور ان کے زیر اثر ایک طبقہ کی مخالفت کی وجہ سے منظور نہیں ہوا تھا۔اب تمام مسلمانوں نے اس مطالبہ کو متفقہ طور پر پسند کیا۔البتہ علیگڑھ کی پارٹی اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر یہ میموریل آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہو تو زیادہ بہتر رہے گا۔آپ کو تو کام سے غرض تھی۔آپ نے فرمایا۔بہت اچھا۔چنانچہ یہ میموریل پیش ہونے پر گورنمنٹ نے اسے منظور کر لیا۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس سے کما حقہ فائدہ نہیں اٹھایا۔یعنی جس کثرت سے مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کے لئے مساجد میں جانا چاہئے۔اس کثرت سے نہیں جاتے۔حضرت خلیفہ امسیح اول کی موجودگی میں سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ کا نماز کی امامت و جمعہ پڑھانا بدر مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں مدینہ مسیح “ کے نیچے لکھا ہے: خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت امیر کی صحت اچھی ہے۔اہل بیت نبوی بھی بخیر و عافیت ہیں۔صاحبزادہ محمود احمد صاحب مسجد مبارک میں امامت کراتے اور مسجد اقصیٰ میں جمعہ پڑھاتے ہیں۔حضرت امیر بھی جمعہ کے دن مسجد اقصیٰ میں تشریف لے جاتے ہیں۔ور