حیاتِ نور — Page 509
۵۰۵ که یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔قرآن مجید میں تو لکھا ہے لا نفرق بين احد من رسله۔لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔رہی یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں خاتم النبیین فرمایا ہم اسپرایمان لاتے ہیں۔اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین نہ کرے۔تو بالا تفاق کافر ہے۔یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں۔اور ہمارے مخالف کیا۔اس خاتم النبیین کی بحث کو بحث لا نفرق بین احد من رسلہ سے کوئی تعلق نہیں۔وہ ایک الگ امر ہے۔اس لئے میں تو اپنے اور غیر احمدیوں کے درمیان اصولی فرق سمجھتا ہوں۔ڈاکٹری رپورٹ ۳۵ حضرت صاحب کی طبیعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے رد بصحت ہے۔زخم تھوڑا سا باقی رہ گیا۔باقی سب بھر آیا ہے۔رات کو پیشاب زیادہ آتا ہے۔اس سے قدرے بیخوابی ہو جاتی ہے اور کچھ ضعف ہو جاتا ہے“۔" مسلم یو نیورسٹی علیگڑھ کے لئے حضرت خلیفہ اسیح کا ایک ہزار روپیہ چندہ کا وعدہ جن ایام کے حالات لکھے جارہے ہیں ان دنوں مسلمانوں نے ایک مسلم یونیورسٹی قائم کرنے کا ارادہ کیا۔محترم نواب فتح علی خاں صاحب نے لاہور سے حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں بھی چندہ کی تحریک کی۔اور یہ بھی عرض کیا کہ جماعت میں بھی تحریک فرما دیں کہ وہ کارِ خیر میں حصہ لے۔اس سلسلہ میں حضور نے جو خط نواب صاحب موصوف کو لکھا۔وہ درج ذیل ہے: قادیان ۲۷ فروری ۱۹۱۱ء مکرم معظم جناب نواب صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته جیسا کہ میں نے پہلے جناب کو لکھا تھا۔مجھے اسلامی یونیورسٹی کی تجویز کے ساتھ پوری ہمدردی ہے۔میں خود اس فنڈ میں انشاء اللہ تعالیٰ ایک ہزار روپیہ دونگا۔اپنی جماعت کی شمولیت کے لئے میں نے ایک اعلان شائع کر دیا ہے۔