حیاتِ نور — Page 501
۴۹۷ ایسی حالت میں کہ آثار ان الہامات کے پورے ہونے شروع ہو گئے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح کے حکم سے ہماری کل جماعت کے وہ (یعنی سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ ) امام ہیں۔اور انہوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں ایسی غیر معمولی ترقی کی ہے۔جیسے کہ الہام میں تھی۔اور میں نے تو ارہاص کے طور پر یہ سب ارشاد مشاہدہ کئے ہیں۔اس لئے میں مان چکا ہوں کہ یہی وہ فرزندار جمند ہیں۔جن کا نام محمود احمد سبز اشتہار میں موجود ہے۔ڈاکٹری رپورٹ حضرت خلیفتہ المسیح سلمہ الرحمن کی حالت بفضلہ تعالیٰ بتدریج رو بصحت ہے۔گزشتہ ہفتہ میں کوئی نئی تکلیف پیدا نہیں ہوئی سردی لگنے کے سبب ایک دور روز سر میں در درہا۔اور گا ہے گا ہے رات کو بسبب بیخوابی بیچینی ہو جاتی ہے۔زخم تیسرے حصے سے زائد بھر گیا ہے۔زخم کا اپریشن رخسار کی ہڈی تک تھا۔اور ہڈی تنگی ہو گئی تھی۔جس سے بعض ڈاکٹر صاحبان نے خوف ظاہر کیا تھا۔کہ شاید ہڈی پر گوشت نہ چڑھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہڈی کا بہت سا حصہ گوشت سے ڈھک گیا ہے۔خطرہ جاتا رہا۔ہنوز نماز لیٹے ہوئے پڑھتے ہیں۔بہت آہستگی سے بول سکتے ہیں۔اور اطبا منع کرتے ہیں کہ زیادہ تر آپ کو باتیں کرائی جائیں۔اس سے ضعف پیدا ہوتا ہے۔بخار نہیں ہے۔باوجود اس ضعف کے کسی کسی وقت خدام کو پند و نصائح سے متمتع کرتے رہتے ہیں۔قرآن شریف سنتے ہیں۔۲ منازل سلوک جناب ایڈیٹر صاحب بدر لکھتے ہیں: اب ہم وہ بیش بہا الفاظ درج کرتے ہیں۔جو منگل سے پہلی رات کو حضرت نے ایک خادم کولکھائے۔اور مولوی فضل دین صاحب نونی نے قلمبند کر کے ہمیں مرحمت فرمائے ہیں۔بوقت شام، ۳۰ جنوری ۱۹۱۷ء حضرت خلیفہ مسیح نے مخدوم میاں محمد صدیق کو بلوایا اور فرمایا۔قلم دوات لاؤ۔میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں۔اس کو معمولی نہ تھو۔یہ بہت بڑی بات بتاتا ہوں۔فرمایا قرآن کریم کی یہ آیت تین مرتبہ پڑھو۔اَولَمْ يَكْفِهِمُ اَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي