حیاتِ نور — Page 495
۴۹۱ ـور کرو۔کوئی اگر ناراض ہو تو صبر سے کام لو اور دعائیں کرو۔۔۔یہ معرفت کی باتیں ہیں۔مجھے کہنے میں معذور سمجھو۔میرے دل کی خواہش برس بھر سے تھی۔بدگمانی بھی ہوئی کہ شاید چیسوں کے لئے بلاتا ہے۔میں مالوں کا خواہش مند نہیں۔میرا نام آسمان میں عبد الباسط رہے۔باسط اسے کہتے ہیں جو فراخی دیتا ہے۔میرے پرانے دوست مثل حامد شاہ کے موجود ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ میرا یہی لباس رہا ہے۔میرا مولا وقت پر مجھے ہر چیز دیتا ہے۔اس کے بڑے بڑے فضل مجھ پر ہیں۔میں ابھی گرا تھا اگر تھوڑی آنکھ پر لات مار دیتی۔تو کیا حقیقت تھی؟ یہ اس کا فضل ہے۔سال گزشت میں کئی قسم کی غلطیاں ہوئیں۔مگر خدا کے فضل سے امید ہے کہ آئندہ نہ ہونگی۔19 مندرجہ بالا دونوں تقریروں میں جو قیمتی نصائح یا اشارے ہیں۔ان سے وہی لوگ حظ اٹھا سکتے ہیں۔جنہوں نے خلافت اور صدرانجمن کے جھگڑے کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہو۔ان تقریروں سے اس درد کا پتہ لگ سکتا ہے جو حضور کے دل میں جماعت کی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کے لئے تھا۔اس رحیم و کریم انسان کی حسن ظنی کو دیکھو کہ وہ سمجھتا ہے۔سال گزشتہ میں جو غلطیاں مخالفین خلافت کر چکے ہیں۔امید ہے کہ آئندہ نہیں کریں گے۔ڈاکٹری رپورٹ جمعہ اور ہفتہ کے دن طبیعت کا یہ حال رہا کہ درد تھوڑا بہت ہوتا رہا۔کسی وقت بالکل بھی آرام ہوتا رہا۔مور برابر ہوتی رہی۔اتوار کے روز ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب امرتسر سے تشریف لائے۔چونکہ ان کی تشخیص کے مطابق زخم میں مادہ تھا۔اس واسطے پیر کی صبح کو چیر دے کر وہ مادہ انہوں نے خارج کر دیا۔آج منگل کی صبح کو یہ کیفیت ہے کہ اب درد بالکل نہیں۔رات بالکل آرام سے سوئے رہے چہرے کا زخم اگر چہ گہرا ہے۔مگر امید ہے کہ انشاء اللہ جلد بھر جاوے گا۔احباب دعا میں مصروف رہیں۔بدھ کی رات کو بہ سبب بخار ہو جانے کے بے چینی اور بیخوابی رہی۔غرباء کا ملجاو ماوی میر ناصر نواب گزشتہ صفحات میں احباب پڑھ چکے ہیں کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کو ہر وقت اس امر کا فکر دامنگیر رہتا تھا کہ جماعت کے غربا کی پرورش معقول طریق پر ہوتی رہے۔چنانچہ آپ نے ان کے