حیاتِ نور — Page 496
ـور ۴۹۲ لئے ایک الگ محلہ دار الضعفا نام سے خود چندہ کر کے بنوایا۔اور ہر ممکن کوشش کی کہ ان کی ضروریات بطریق احسن پوری ہوتی رہیں۔چنانچہ بدر ۱۹ جنوری 1991ء میں اطلاع عام کے عنوان سے آپ کی طرف سے ایک نوٹ شائع ہوا۔جس میں آپ فرماتے ہیں: جسقد راحمدی جماعت ہے۔اس پر واضح ہو کہ قادیان میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضعفا تعلیم دین کے لئے جمع رہتے ہیں۔جن کا گزارہ فقط تو کل پر ہوتا ہے۔روٹی لنگر مسیح سے مل جاتی ہے۔لیکن کپڑے و دیگر حوائج ضروری جیسے دھوبی ، نائی وغیرہ کے لئے کچھ نہ کچھ کپڑے یا نقد کی بھی انہیں ضرورت پڑتی ہے۔جس کے لئے اس عاجز یعنی ( ناصر نواب) نے کوشش کا ذمہ لیا ہے۔چنانچہ بعض احباب نے ان غر با وضعفا کا حال معلوم کر کے اس عاجز کو ان کی خدمت کے لئے تھوڑا بہت ماہوار یا سالانہ دینا منظور فرمایا ہے۔نیز قادیان کے احمدیوں نے ضعفا کے لئے چندہ دینا شروع کر دیا ہے۔اور اس کام میں مجھے تھوڑی بہت کامیابی بھی اب تک ہوئی ہے۔اور آئندہ زیادہ امید ہے۔چونکہ کام نفسانی جوش سے نہیں شروع کیا گیا۔اس لئے انشاء اللہ تعالی دن بدن اس میں زیادہ سے زیادہ برکت ہونے کی امید ہے۔اکثر احباب پر یہ امر پوشیدہ تھا۔اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اخبار میں درج کر کے کل احباب پر واضح و مبرہن کر دیا جاوے کہ ہر ایک اہل وسعت احمدی ضعفا کے لئے حسب مقدور کچھ نہ کچھ عنایت فرما کر میری دستگیری فرما دے۔اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے۔پرانے جوتے پرانے کپڑے نقد و جنس جس قسم کی ہو۔قرآن شریف و کتب دینیہ غرض جو کچھ ہو سکے۔عنایت فرما دیں۔اور اس عاجز کو کسی خوشی و غمی کی تقریب میں فراموش نہ کریں۔یہ عاجز اور میرے ضعفا ان کے حق میں دعا کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔ہم انشاء اللہ دعا کرتے رہیں گے۔جس کا فائدہ انشاء اللہ تعالیٰ انہیں نظر آتا رہے گا۔اور یہ دینی خدمت ان کی خالی نہیں جانے کی۔امید ہے کہ لوگ ضرور متوجہ ہوں گے۔اور پنبہ غفلت کانوں سے نکالکر میری عرض سنیں گے۔کوئی تعداد میں مقرر نہیں کرتا۔ایک روپیه، دس روپیه، سو روپید ۸ آنے ، ۴ آنے ، ۲ آنے ، ا آنہ جو ہو ماہانہ، سالانہ ، ششماہی ، سہ ماہی بھیج دیا کریں۔نیا پرانا کپڑا۔نیایا پرانا جوتا کوئی قرآن