حیاتِ نور

by Other Authors

Page 488 of 831

حیاتِ نور — Page 488

ور ۴۸۴ مرزا سلطان احمد صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔آپنے اس خوشی میں مدرسہ تعلیم الاسلام کو ایک سور و پیہ دیا۔اور پھر جلد واپس تشریف لے گئے۔" رونداد جلسه سالانه ۲۶،۲۵۶۱۹۱۰، ۲۷ دسمبر چونکہ حضرت خلیفہ المسیح کی علالت کے باعث کچھ قیاس نہ ہو سکتا تھا کہ آپ کس وقت تقریر کرنا پسند فرما دیں گے۔اس لئے انجمن کوئی پروگرام شائع نہ کر سکی۔تا ہم روزانہ صبح کے وقت پروگرام کی اطلاع احباب کو ہو جاتی تھی۔۲۵ دسمبر ۱۹۱۰ء کو بعد نماز ظہر حضرت کی تقریر لا الہ الا اللہ کے فقرہ پر ہوئی۔۲۶ دسمبر کو صبح 11 بجے سے لے کر نماز ظہر تک حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریر ہوئی۔بعد جمع نماز ظہر وعصر جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے چندہ کی اپیل کی۔۲۷ دسمبر کو صبح ابجے سے نماز ظہر تک حضرت مولوی محمد احسن صاحب نے اور ظہر وعصر کی نمازوں کے بعد حضرت خلیفہ المسیح نے حربہ دعا کے موضوع پر تقریر فرمائی۔جو آئندہ صفحات میں درج کی جائے گی۔حضرت خلیفتہ المسیح کی ہر دو تقریر میں مدرسہ کے پرانے بورڈنگ کے صحن میں ہوئیں۔اس کے علاوہ جو احباب وقتا فوقتا ملاقات کے لئے آتے رہے۔ان کو بھی حضرت نصائح فرماتے رہے۔اور خصوصیت کے ساتھ تمام انجمنوں کے پریذیڈنٹوں کو سیکر یٹریوں کو بلا کر ایک نصیحت فرمائی اور ایک نصیحت طلبائے کالج کو بلا کر کی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب کی تقریریں مسجد نور کے صحن میں ہوئیں۔حضرت فاضل امروہی صاحب کی تقریر مسجد اقصیٰ میں ہوئی۔کانفرنس مسجد مبارک میں منعقد ہوئی۔اس کے علاوہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اور بابا الدین صاحب فلاسفر مہمانوں کی قیام گاہوں پر جا کر وعظ و نصیحت فرماتے رہے۔ڈاکٹری رپورٹ اخبار بدر مؤرخہ ۱۲ جنوری ۱۹۱۱ء میں لکھا ہے: گزشتہ اخبار میں ہم خبر دے چکے ہیں کہ حضرت صاحب کے زخم اچھے ہو گئے ہیں۔مگر درد عصابہ کسی کسی وقت ہو جاتا ہے۔اس کے بعد جمعہ کے دن درد عصا بہ زیادہ رہا۔ہفتہ کے دن در دعصا بہ کم تھا۔ایت وار کی شب کو عصا بہ نہ تھا مگر دو تین اسہال ہو جانے کے سبب بہت ضعف رہا۔پیر کی شب خفیف عصابہ کسی