حیاتِ نور

by Other Authors

Page 481 of 831

حیاتِ نور — Page 481

خبر نے کیا اثر کیا۔وجد کی سی حالت ہوگئی۔اور اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرت کا تماشا نظر آیا۔حیدر آباد میں شیخ محمد اسماعیل ولد حاجی امیر الدین صاحب تاجر چرم ہیں۔وہ بیمار ہوئے۔انہوں نے فوراً ایک سورد پیہ حضرت کی خدمت میں بطور نذر خاص بھیجا۔اس پر اچھے ہو گئے۔پھر دوسرے دن ایسا ہی اتفاق ہوا۔تو انہوں نے پچیس اور بھیجے۔اور ایک شخص نے پنڈ دادنخان سے خط لکھا کہ جن ایام میں آپ پنڈ دادنخان میں مدرس تھے۔اس وقت کی چار روپیہ کی چونیاں آپ کی میرے ذمہ ہیں۔اب وہ بھیجنا چاہتا ہوں۔یہ دونوں خط حضرت کو سنائے گئے۔تو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایسا غلبہ ان پر ہوا کہ بے اختیار رو پڑے۔میں نے حضرت کو ایک دو مرتبہ اس حالت میں دیکھا ہے۔غمگین ہوتے تو دیکھا ہی نہیں۔یہ رونا خدا تعالیٰ کی خاص مہر بانیوں کی یاد اور جوش کا تھا۔اور بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے لگے۔فرمایا اللہ میرا مولیٰ ایسا ہی قادر خدا ہے۔اس نے دکھا دیا ہے کہ وہ طب کے تعلق کو توڑ کر بھی مجھے رزق دیتا ہے۔اور ایسے طور پر دیتا ہے کہ وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا۔میری بیوی اس قدرت کو سمجھ نہیں سکتی۔ناتوان ہے۔میرا ایمان بڑا قوی ہے۔میرا موٹی میرے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے۔حضرت کو جب اس طرح پر میں نے حمد النبی میں رطب اللسان پایا۔تو میرے دل میں جوش اٹھا کہ اس وقت وہ منی آرڈر تقسیم کیا جاوے۔چنانچہ میں خود ڈاکخانہ میں گیا۔اور ان منی آرڈروں کو تقسیم کیا۔اس طرح میں نے دیکھا۔کہ چند منٹ پہلے بظاہر اگر فقر تھا۔تو اسی ساعت غنا کا نظارہ نظر آ گیا۔حضرت نے اسی جوش میں شیخ محمد اسماعیل صاحب کے لئے تو خصوصاً بڑی دعا کی۔اور دیر تک دعا کرتے رہے۔یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس جوش میں کس کس کے لئے دعا ئیں کی ہوں گی اور کیا کیا کی ہوں گی۔میرا یقین ہے کہ اس وقت حضرت کی دعاؤں کی قبولیت کی گھڑی تھی۔اور خدا کا شکر ہے کہ اس وقت دعا کرنے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔غرض اس وقت وہ منی آرڈر آپ کو تقسیم کئے گئے۔جس شخص نے پنڈ دادنخان سے چونیوں کا خط لکھا تھا۔فرمایا اس کو لکھدو۔معاف ! مجھے تو معلوم بھی نہیں۔۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء کا معاملہ ہے۔ہمیں تو کچھ خبر نہیں۔