حیاتِ نور — Page 462
۴۵۸ سات : ہوں۔نماز فجر کے بعد جناب ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی کی موجودگی میں محترم قاضی محمود احمد صاحب مالک راجپوت سائیکل ورکس نیلا گنبد نے بیان کیا کہ میں اپنی والدہ کی گود ہی میں تھا کہ سخت بیمار ہو گیا۔بخار بڑا تیز تھا۔حضرت خلیفہ المسیح اول لا ہور تشریف لائے ہوئے تھے اور احمد یہ بلڈنگز میں قیام فرما تھے۔مجھے والد محترم حضرت منشی محبوب عالم صاحب حضور کی خدمت میں بغرض علاج لے گئے۔حضور نے ایک نظر دیکھ کرنسخہ لکھ دیا اور فرمایا کہ بانس کے پتوں کے پانی میں یا والدہ کے دودھ میں تباشیر اور یو کونین حل کر کے پلا دو۔والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ خیال ہوا کہ حضور نے بچے کو خاص توجہ اور غور اپنی جلد سے نہیں دیکھا۔خیر میں نے نسخہ بنا کر ایک خورایی سے پھر واپس حضور کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ حضور بخار نہیں اترا۔حضور نے فرمایا کہ نورالدین نے آپ کے بچے کو بہت توجہ اور غور سے دیکھا ہے۔جلد بازی اچھی نہیں۔پھر جا کر وہی دوا دو۔لیکن جب میں گھر پہنچا تو دیکھا کہ بخار کا نام و نشان نہیں اور بدن بالکل معمول پر ہے۔اب ہم پھر اصل واقعہ کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا شہادت رائے کیشو داس صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوئی۔رائے صاحب نہایت اخلاق حمیدہ سے پیش آئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمت میں کرسی پیش کی اور اس تکلیف دہی کے لئے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ قانونی مجبوری کی وجہ سے حضور کو ملتان بلانا پڑا۔وکیل اور کورٹ انسپکٹر نے بھی سوالات کرتے وقت ان آداب کا لحاظ رکھا جو ایک قوم کے لیڈر کے شایانِ شان ہوتے ہیں۔ایک ضمنی روایت یہاں مجھے ایک روایت یاد آ گئی۔موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے اس کا ذکر کئے دیتا ہوں۔میں نے تقسیم ملک سے کافی عرصہ قبل اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ لاہور میں بعض بزرگوں سے سنا تھا کہ ایک مرتبہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کسی مقدمہ میں شہادت کے لئے تشریف لے گئے۔مخالف وکیل نے آپ کی حکیمانہ حیثیت کو گرانے کے لئے یہ سوال کر دیا کہ کیا اس ہفتہ میں کسی مریض نے آپ کی خدمت میں بطور نذرانہ ایک ہزار روپیہ پیش کیا ہے ؟ حضور نے فرمایا۔ہاں! قادیان واپس پہنچ کر حضور نے اس شخص