حیاتِ نور — Page 463
ات ـور ۴۵۹ کو جس نے ایک ہزار روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا، اس شکریہ میں کہ اس کی وجہ سے حضور کا وقار قائم رہا۔پانچ سوروپیہ کی رقم واپس کر دی۔اس ضمنی روایت کے اندراج کے بعد پھر ہم اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔یہ ذکر ہورہا تھا کہ حضور خلیفہ المسیح نے ملتان کی ایک عدالت میں ایک مقدمہ کے دوران میں شہادت دی۔شہادت کے بعد حضور مکان پر تشریف لائے۔ارادہ تو اسی روز واپس لاہور آنے کا تھا مگر معززین شہر کے اصرار پر ایک روز اور قیام کرنا منظور فرمالیا۔شام تک لگا تار بیمار آتے رہے۔دوسرے روز بھی شام تک یہی سلسلہ جاری رہا۔درمیان میں بعض لوگ کچھ مسائل بھی دریافت کر لیتے تھے۔چنانچہ ایک شخص نے عرض کی کہ حضور! مجھے خوا ہیں بہت آتی ہیں۔میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کچھ شیطانی نبھی ہوں۔فرمایا تم سونے سے قبل قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ہر دو سورتیں پڑھ کر ہاتھ پر پھونک کبر سارے بدن پر ہاتھ پھیر لیا کرو۔اور لاحول پڑھا کرو۔اس سے تم محفوظ رہو گے۔برا خواب آوے تو آعوذ پڑھو اور لاحول پڑھو اور بائیں طرف تھوک دو۔اللہ تعالیٰ اس کے شر سے تم کو محفوظ رکھے گا۔تکلیف ایک خیالی امر ہے ایک شخص نے عرض کی کہ حضور کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔فرمایا۔تکلیف بھی ایک خیالی بات ہے۔ایک نان پز ایک روٹی کے واسطے دو دفعہ تنور میں سرڈالتا ہے۔مجھے اگر کوئی دولاکھ روپیہ دے تو میں ایک دفعہ بھی تنور میں سر ڈالنا نہیں چاہتا۔میں تو یہی کہہ دوں کہ مجھے روپیہ کی ضرورت نہیں۔۲۲ چکڑالوی فرقہ سے سوال جوابدیا۔اس کے بعد حضور نے چکڑالوی فرقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے چکڑالویوں پر دو سوال کئے تھے جن کے وہ کچھ جواب نہ دے سکے۔ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ جب تم کلمہ شریف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس واسطے نہیں پڑھتے کہ یہ الفاظ قرآن شریف میں ایک جگہ نہیں آئے۔تو پھر نماز جو تم نے بنائی ہے وہ کیوں پڑھتے ہو۔اس کے الفاظ بھی تو قرآن شریف میں ایک جگہ ہو کر نہیں آتے“۔بعد ازاں ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہ مانگنے کے سوال کا آپ نے شرح وبسط کے ساتھ