حیاتِ نور — Page 25
۲۵ مگر کسی سے سوال نہیں کیا۔میں مغرب کے وقت ایک مسجد میں چلا گیا مگر وہاں کسی نے مجھے نہیں پوچھا اور نماز پڑھ کر سب چلے گئے۔جب میں اکیلا تھا تو مجھے باہر سے آواز آئی۔نورالدین! نورالدین! یہ کھانا آ کر جلد پکڑ لو۔میں گیا تو ایک مجمع میں بڑا پر تکلف کھانا تھا۔میں نے پکڑ لیا۔میں نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ یہ کھانا کہاں سے آیا کیونکہ مجھے علم تھا کہ خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔میں نے خوب کھایا اور پھر برتن مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ کھونٹی پر لٹکا دیا۔جب میں آٹھ دس دن کے بعد واپس آیا تو وہ برتن و ہیں آویزاں تھا۔جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ کھانا گاؤں کے کسی آدمی نے نہیں بھیجوایا تھا۔خدا تعالیٰ نے ہی بھجوایا تھا۔خیر اس بات کا ذکر ہو رہا تھا کہ آپ طب سیکھنے کے لئے حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کے پاس جانا چاہتے تھے۔راستہ میں محض اس لئے ٹھہر گئے کہ بیمار تھے اور مولوی عبدالرشید صاحب بنارسی کے ذریعہ آپ کو بہت آرام ملا۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرمائی تو پھر لکھنو کا قصد کیا۔راستے میں ایک روز اپنے بھائی صاحب کے ایک دوست عبد الرحمن خاں ما لک مطبع نظامی کے پاس کا نپور ٹھہرے۔وہاں سے جو روانہ ہوئے ، تو کچی سڑک اور گرمی کا موسم، گرد و غبار نے خاک آلودہ کر دیا۔گاڑی سے اترتے ہی حکیم صاحب کا پتہ پوچھا۔خدائی عجائبات ہیں کہ سامنے ہی حکیم صاحب کا مکان تھا۔آپ فرماتے ہیں: یہاں ایک پنجابی مثل یاد کرنے کے قابل ہے کل کرے اورتیاں رب کرے سولیاں۔میں اسی وحشیانہ حالت میں مکان میں جا گھسا۔ایک بڑا ہال نظر آیا۔ایک فرشتہ خصلت، دلر با حسین ، سفید ریش نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے ایک گدیلے پر چارزانو بیٹھا ہوا، پیچھے اس کے ایک نہایت نفیس تکیہ اور دونوں طرف چھوٹے چھوٹے تکیے، سامنے پاندان ، اگالدان، خاصدان ، قلم دوات ، کاغذ دھرے ہوئے ، ہال کے کنارے کنارے جیسا کوئی التحیات میں بیٹھتا ہے، بڑے خوشنما چہرے قرینے سے بیٹھے ہوئے نظر آئے۔نہایت براق چاندنی کا فرش اس ہال میں تھا۔وہ قہقہہ دیوار دیکھ کہ میں حیران سا رہ گیا۔کیونکہ پنجاب میں کبھی ایسا نظارہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔بہر حال اس کے مشرقی دروازہ سے اپنا بستہ اس دروازہ میں ہی رکھ کر حضرت حکیم صاحب کی طرف جانے کا