حیاتِ نور

by Other Authors

Page 24 of 831

حیاتِ نور — Page 24

اول ۲۴ رو طبیب حکیم علی حسین صاحب لکھنوی ہیں۔بیماری نے تو لا چار کر ہی رکھا تھا۔لہذا آپ فورا عازم سفر ہو گئے۔پہلے مراد آباد پہنچے۔وہاں خدا تعالیٰ کا ایک بندہ عبدالرشید نام ساکن بنارس ملا۔اس نے آپ کو اس قدر آرام پہنچایا کہ آپ ماہ ڈیڑھ ماہ میں بالکل تندرست ہو گئے۔انہی مولوی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح اول فر ماتے ہیں: مولوی عبدالرشیدہ احب بنارسی کا ذکر سیر ” میرے ایک بنارس کے رہنے والے محسن مولوی عبدالرشید تھے۔انہوں نے میرے ساتھ بڑی نیکیاں کی ہیں۔وہ مراد آباد میں رہتے تھے۔ایک مرتبہ ایک مہمان عشاء کے بعد آ گیا۔ان بنارسی بزرگ کے بیوی بچے نہ تھے۔مسجد کے ایک حجرے میں رہتے تھے۔حیران ہوئے کہ اب اس مہمان کا کیا بندوبست کروں اور کس سے کہوں۔انہوں نے مہمان سے کہا کہ آپ کھانا پکنے تک آرام کریں۔وہ مہمان لیٹ گیا اور سو گیا۔انہوں نے وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر یہ عا پڑھنی شروع کی۔افوض أمري إلى الله إِنَّ اللهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ جب اتنی دیر گزری کہ جتنی دیر میں کھانا پک سکتا ہے یہ برابر دعا پڑھنے میں مصروف تھے کہ ایک آدمی نے باہر سے آواز دی کہ حضرت! میرا ہاتھ جلتا ہے جلدی آؤ۔یہ اُٹھے ایک شخص تانبے کی رکابی میں گرم گرم پلاؤ لئے ہوئے آیا۔انہوں نے لے لیا۔اور مہمان کو اُٹھا کر کھلایا۔وہ حجرہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔اس رکابی کا کوئی مالک نہ نکلا۔وہ تانبے کی رکابی رکھی رہتی تھی۔اور وہ کہا کرتے تھے جس کی رکابی ہو لے جائے۔لیکن کوئی اس کا مالک پیدا نہ ہوا م الہی دعوت اس قسم کے بعض واقعات حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کوبھی پیش آچکے ہیں۔مجملوان کے ایک واقعہ اخویم محترم حکیم محمد صدیق صاحب آف میانی ضلع سرگودھا نے سنایا کہ حضرت خلیفہ اسیح فرمایا کرتے تھے: ایک دفعہ میں اچھے اُستاد کی تلاش میں وطن سے دور چلا گیا۔تین دن کا بھوکا تھا