حیاتِ نور — Page 386
اله ات نُور کہ تم نے جو حرکات کی ہیں۔نظام سلسلہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے تمہاری پہلی بیعت ٹوٹ چکی ہے۔اب اگر تم سابقہ خیالات سے تو بہ کرتے ہو تو دوبارہ بیعت کرو۔مگر قربان جائیے خواجہ صاحب پر کہ انہوں نے اس بیعت کا نام بیعت ارشاد رکھا اور لوگوں کی آنکھوں میں ڈھول ڈالنے کے لئے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ ہماری روحانی صفائی کو دیکھ کر گویا بیعت ارشاد لی گئی۔چنانچہ خواجہ صاحب ۶۳ فرماتے ہیں: " کہا جاتا ہے کہ انہوں نے (مراد حضرت خلیفہ اول) مجھ سے بیعت دوبارہ لی۔یہ بالکل سچ ہے۔بیعت کس امر کی بیعت ارشاد! کیا تم ایمان سے کہہ سکتے ہو کہ انہوں نے مجھ سے تجدید بیعت کرائی۔وہ بیعت ارشاد تھی، نہ بیعت تو بہ کی تجدید۔اس کے بعد ایک اور بیعت رہ جاتی ہے، وہ ہے بیعت دم۔اب جاؤ صوفیائے کرام کے حالات پڑھو اور دیکھو کہ بیعت ارشاد وہ کس مرید سے لیتے ہیں۔وہ سلسلہ میں داخل کرتے وقت مرید سے بیعت تو بہ لیتے ہیں اور جب اس میں اطاعت کی استعداد یکھتے ہیں تو اس سے بیعت ارشاد لیتے ہیں اور پھر جب اس پر اعتماد کھلی ہو جاتا ہے تو بیعت دم۔ہم اس امر کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جناب خواجہ صاحب بڑے موقعہ شناس آدمی تھے۔چنانچہ جب جناب مولوی محمد علی صاحب نے قادیان چھوڑ کر جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو خواجہ صاحب نے انہیں علاوہ اور باتوں کے ایک یہ بات کہہ کر اس ارادہ سے باز رہنے کی تلقین کی کہ مولوی صاحب !چپ رہو۔کام تو ہم نے ہی کرنا ہے وغیرہ۔اب انہوں نے یہ سوچکر کہ اب ہم نے خلافت کے خلاف کھلم کھلا پرو پیگنڈ ا شروع کیا تو معاملہ ایسا صاف ہو جائے گا کہ آئندہ ہمارے لئے اس مسئلہ میں تاویلات کی گنجائش نہ رہے گی۔اس لئے اب اس معاملہ میں بالکل خاموشی اختیار کرنی چاہئے۔چنانچہ انہوں نے عام مجالس میں خلافت کا تذکرہ ہی چھوڑ دیا بلکہ بظاہر اپنے آپ کو خلافت کا مطیع اور فرماں بردار ظاہر کرتے رہے لیکن در پردہ خلافت کو مٹانے کی تدابیر جاری رکھیں۔چنانچہ ایک تدبیر انہوں نے یہ اختیار کی کہ صدرانجمن کے معاملات میں جہاں کہیں حضرت خلیفۃ المسیح کے کسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی وہاں خلیفہ المسح " کی بجائے پریذیڈنٹ لکھنا شروع کر دیا بلکہ دیکھا جاتا کہ پریذیڈنٹ صاحب نے اس معاملہ میں ہوں سفارش کی ہے۔اس کا ردائی سے مقصد ان کا یہ تھا کہ صدر انجمن کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ بھی انجمن کا حاکم رہا ہے۔